چیف جسٹس نے بار کونسل کے سرکلر پر ناراضگی ظاہرکی
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) جسٹس سوریا کانت نے بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے سرکلر پر سخت اعتراض کیا ہے جس میں نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (این اے ایل ایس اے آر)، حیدرآباد کے آخری سال کے قانون کے طلباءکے ان
بار


نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) جسٹس سوریا کانت نے بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے سرکلر پر سخت اعتراض کیا ہے جس میں نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (این اے ایل ایس اے آر)، حیدرآباد کے آخری سال کے قانون کے طلباءکے اندراج پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بی سی آئی کا موقف بالکل غلط ہے۔ یہ قانون کے طالب علم اور میرے درمیان کا معاملہ ہے۔ اس مسئلے کو اٹھانے والے بی سی آئی کون ہیں؟ یہ بالکل غلط ہے۔

جسٹس سوریا کانت نے کہا، اپنی طالب علمی کے دنوں میں، میں بھی طالب علمی کی سرگرمیوں میں فعال طور پر شامل رہا ہوں۔ یہاں تک کہ یہ فرض کرتے ہوئے کہ وہ غلط ہیں، انہیں پھر بھی احتجاج کرنے کا حق ہے۔ بی سی آئی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے حکم نامے میں کہا کہ کسی بھی نیشنل لاء یونیورسٹی یا لاءیونیورسٹی کے کسی بھی طالب علم یا فیکلٹی کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے بی سی آئی کو نوٹس جاری کیا اور اسے حلف نامہ داخل کرنے کو کہا۔

13 اگست کو، بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے دستخط شدہ ایک سرکلر جاری کیا گیا جس میں ان طلباءکے بطور وکیل اندراج پر پابندی کا حکم دیا گیا تھاجنہوں نے نلسار کے آخری سال کے طلباءکی کنووکیشن تقریب میںچیف جسٹس کی شرکت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

مشرا کے دستخط شدہ اس سرکلر کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ کیرالہ کی بار کونسل اور بی سی آئی کے رکن این منوج کمار نے منن مشرا کو اپنی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے خط لکھا۔ وکلاءکی تنظیمیں آل انڈیا لائرز یونین (اے آئی ایل یو) اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے بھی منن مشرا کے سرکلر پر تنقید کی اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

بڑھتے ہوئے احتجاج کے بعد منن مشرا نے 13 اگست کو ہی طلباءکو وکلاءکے طور پر رجسٹر نہ کرنے کا سابقہ حکم واپس لے لیا۔ اب اس حوالے سے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے منن مشرا کی کارروائی کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande