یوم آزادی کے موقع پر پرانی دہلی کے لال کنواں کا عارضی پتنگ بازار ہوا گلزار
نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ پرانی دہلی کا لال کنواں بازار ان دنوں عارضی طور پر لگنے والے پتنگ بازار کی وجہ سے گلزار ہوگیا ہے۔ دکانوں کے باہر اور سڑک کے کنارے پتنگ فروشوں نے اپنی دکانیں سجا لی ہیں اور یہاں لوگوں کو خریداری کرتے دیکھا جا رہا ہے۔ دارا
لال کنواں کا عارضی پتنگ بازار گلزار


نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔

پرانی دہلی کا لال کنواں بازار ان دنوں عارضی طور پر لگنے والے پتنگ بازار کی وجہ سے گلزار ہوگیا ہے۔ دکانوں کے باہر اور سڑک کے کنارے پتنگ فروشوں نے اپنی دکانیں سجا لی ہیں اور یہاں لوگوں کو خریداری کرتے دیکھا جا رہا ہے۔

دارالحکومت دہلی میں یوم آزادی کے موقع پر پتنگ اڑانے کی پرانی روایت ہے۔ جیسے ہی دوپہر ڈھلتی ہے، لوگ اپنی چرخیاں اور پتنگیں لے کر اپنی اپنی چھتوں پر پہنچ جاتے ہیں اور پتنگ اڑانے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، جو دیر رات تک جاری رہتا ہے۔ لال کنواں کا پتنگ بازار بھی کافی قدیم ہے، جہاں تھوک اور خردہ دونوں طرح کی پتنگیں فروخت ہوتی ہیں۔ دہلی اور این سی آر سے لوگ یہاں پتنگیں خریدنے آتے ہیں۔

اس سال یہاں سب سے کم قیمت کی پتنگ 10 روپے جبکہ سب سے مہنگی اور بڑی پتنگ 100 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ کاغذ اور پلاسٹک کی پتنگوں کی یہاں بھرمار ہے۔ پتنگ اڑانے کے لیے ڈور اور مانجھا بھی یہاں فروخت کیا جا رہا ہے۔ جان لیوا چائنیز مانجھا فروخت کرنا اور خریدنا ممنوع ہے، اس لیے دکاندار بھی یہاں چائنیز مانجھا فروخت نہیں کرتے۔

یہاں پتنگوں کے نام بھی خاصے دلچسپ رکھے گئے ہیں۔ امیتابھ بچن، سلمان خان اور شاہ رخ خان کے نام پر بھی پتنگیں فروخت ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ چاند تارا، سر پھٹا، چھوٹا بھیم، ننجا، موٹو پتلو جیسے کرداروں کے نام پر بھی پتنگوں کے نام رکھے گئے ہیں۔ یوم آزادی کے موقع پر یہاں ترنگا جھنڈا، ٹی شرٹ، کیپ، لڑکیوں کے لیے چوڑیاں، ہیئر بینڈ اور فرینڈ شپ بینڈ وغیرہ بھی بڑی تعداد میں فروخت ہو رہے ہیں۔

پرانی دہلی میں یہ روایت بہت پرانی ہے کہ خواتین اور بچیاں 15 اگست سے پہلے ہی اس کی تیاریاں شروع کر دیتی ہیں۔ اس کے لیے ترنگے رنگ کے کپڑے سلوائے جاتے ہیں اور ترنگے رنگ کے زیورات سمیت دیگر تمام سامان جمع کیا جاتا ہے۔ 15 اگست کے دن لوگ چھتوں پر چڑھ کر خوب موج مستی کرتے ہیں۔ چھتوں پر ڈی جے بھی لگائے جاتے ہیں اور رقص و موسیقی کے پروگرام بھی منعقد ہوتے ہیں۔ پرانی دہلی میں 15 اگست کو ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔

پرانی دہلی کے آس پاس کے اسپتالوں میں 15 اگست کے دن چھتوں سے پتنگ اڑاتے ہوئے لوگوں کے گرنے کے واقعات کے پیش نظر خصوصی انتظامات بھی کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی طرح کا حادثہ ہونے کی صورت میں متاثرین کو جلد از جلد اسپتال پہنچانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے چھتوں کے بجائے میدانوں میں پتنگ اڑائی جاتی تھی، لیکن اب یہ منظر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ لوگ زیادہ تر چھتوں پر ہی پتنگ اڑاتے نظر آتے ہیں۔

15 اگست کے موقع پر پتنگوں کا کاروبار بھی کافی بڑا ہے۔ پتنگ بنانے والے سال بھر پتنگیں تیار کرکے اس دن کا انتظار کرتے ہیں۔ بہت سے کارخانے تین سے چار ماہ پہلے ہی پتنگیں بنانے کا کام شروع کر دیتے ہیں۔ پتنگوں کا کاروبار کروڑوں روپے کا بتایا جاتا ہے۔ کارخانے دار، تھوک فروش اور ریٹیلر وغیرہ 15 اگست کے تین چار دنوں میں خاصی بڑی رقم کما لیتے ہیں۔

دہلی سے اتر پردیش اور ہریانہ میں بھی پتنگیں بھیجی جاتی ہیں، جہاں 15 اگست اور دیگر مواقع پر پتنگ اڑانے کی روایت رہی ہے۔ اس کاروبار میں کبھی مندی نہیں رہتی اور اس سے وابستہ لوگ ہمیشہ خوش نظر آتے ہیں، کیونکہ انہیں لاگت کے مقابلے میں اچھا منافع حاصل ہوتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande