
کولکاتا، 13 اگست (ہ س)۔
نیتا جی سبھاش چندر بوس کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کرنا بی جے پی رکن پارلیمنٹ نگیندر رائے عرف اننت مہاراج کو بھاری پڑ گیا ہے۔ مغربی بنگال حکومت نے انہیں دیا گیا ریاست کا باوقار ’بنگ وبھوشن‘ اعزاز فوری اثر سے واپس لے لیا ہے۔ جمعرات کو نوانا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ اب اننت مہاراج خود کو ’بنگ وبھوشن‘ اعزاز یافتہ کے طور پر پیش نہیں کرسکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی تمام سرکاری ریکارڈ سے بھی ان کے نام کے ساتھ درج ’بنگ وبھوشن‘ کا لفظ ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ریاستی حکومت کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب نیتا جی کے بارے میں اننت مہاراج کے حالیہ تبصروں نے سیاسی تنازع کو مزید تیز کردیا تھا۔ اننت مہاراج نے ہندوستان کی آزادی میں نیتا جی کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی آزادی میں ان کا کوئی تعاون نہیں تھا۔ انہوں نے آزاد ہند فوج کے غلط استعمال کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ ان تبصروں کے بعد ریاست کی سیاست میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
وہیں، ایک روز قبل بدھ کو ریاستی سکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ شبھندو ادھیکاری نے واضح کردیا تھا کہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کے بارے میں قابل اعتراض تبصرہ کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔
نونا کی جانب سے جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ اننت مہاراج کو 21 فروری کو ریاست اور ریاست کے عوام کے لیے ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں ’بنگ وبھوشن‘ اعزاز دیا گیا تھا۔ اس وقت ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی تھیں۔ تاہم، اب حکومت کے علم میں کچھ ایسے معاملات آئے ہیں جنہیں سنگین سمجھا گیا ہے۔
حکومت نے دستیاب حقائق اور حالات پر غور کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اننت مہاراج کے پاس یہ اعزاز برقرار رہنا ’بنگ وبھوشن‘ کی عظمت اور وقار کے مطابق نہیں ہے۔ اس کے بعد اعزاز فوری اثر سے واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ کارروائی وزیر اعلیٰ شبھندو ادھیکاری کے اس بیان کے عین اگلے روز ہوئی ہے، جس میں انہوں نے نیتا جی کے احترام سے متعلق حکومت کی پالیسی واضح کی تھی۔ بدھ کو صحافیوں سے بات چیت کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ نیتا جی کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے والوں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ کارروائی کے دوران سیاسی شناخت کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا اور قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہوگا۔
وزیر اعلیٰ کی ہدایت کے بعد پولیس اور سائبر سیل نے سوشل میڈیا پر نیتا جی کے بارے میں کیے گئے قابل اعتراض تبصروں اور پوسٹوں کی شناخت شروع کردی۔ اسی سلسلے میں شمالی دیناج پور میں جمعرات کو ایک نوجوان کو نیتا جی کے بارے میں قابل اعتراض پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیے جانے کی بھی اطلاع سامنے آئی ہے۔
وزیر اگنی مترا پال نے بھی اننت مہاراج کے تبصرے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اننت مہاراج نے یہ سوچا تھا کہ نیتا جی کی توہین کرکے وہ بنگال کے لوگوں کی حمایت حاصل کرپائیں گے تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا، نیتا جی کی توہین بنگالیوں کی توہین ہے۔ ہم اسے برداشت نہیں کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہیں کی جانی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ