تمل ناڈو-کیرلم سرحد پر ٹرین کی زد میں آنے سے ہتھنی اور بچے کی موت
کوئمبٹور، 13 اگست (ہ س)۔ ہاتھیوں کے عالمی دن کے موقع پر تمل ناڈو-کیرلم سرحد پر ٹرین کی زد میں آنے سے ہتھنی اور ایک بچے کی موت ہو گئی۔ محکمہ جنگلات کے افسران معاملہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ حادثہ کیرلم کے پلکڑ ضلع کے والایر علاقے میں بدھ (12 اگست
یہ حادثہ کیرلم کے پلکڑ ضلع کے والایر علاقے میں ہوا۔


کوئمبٹور، 13 اگست (ہ س)۔ ہاتھیوں کے عالمی دن کے موقع پر تمل ناڈو-کیرلم سرحد پر ٹرین کی زد میں آنے سے ہتھنی اور ایک بچے کی موت ہو گئی۔ محکمہ جنگلات کے افسران معاملہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ حادثہ کیرلم کے پلکڑ ضلع کے والایر علاقے میں بدھ (12 اگست) کی رات تقریباً پونے 12 بجے پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چار ہاتھیوں کا جھنڈ ریل کی پٹری پار کر رہا تھا۔ اسی دوران وہاں سے گزرنے والی منگلورو ایکسپریس کی زد میں ہاتھیوں کا جھنڈ آ گیا۔ ٹرین کے انجن کے پہیوں میں پھنس کر ہتھنی اور بچے کی موت ہو گئی۔ کسی نے اس کی اطلاع محکمہ جنگلات کو دی۔ اس کے بعد والایر فورسٹ ڈیویژن کے افسران اور پلکڑ ریلوے افسران پہنچے۔ لاشوں کو پوکلین مشینوں کی مدد سے ہٹایا گیا۔ حادثے کی وجہ سے تمل ناڈو-کیرل کے درمیان اہم ریل سروسز ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک متاثر رہیں۔

اس کے علاوہ ’بی‘ ٹریک پر کیرل سے کوئمبٹور آنے والی ٹرینوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا اور اس راستے سے گزرنے والی ٹرینوں کو ’اے‘ ٹریک کے راستے چلایا گیا۔ اس سے قبل نومبر 2021 میں بھی اسی منگلورو ایکسپریس ٹرین کی زد میں آنے سے حاملہ ہتھنی سمیت تین ہاتھیوں کی اسی علاقے میں موت ہو چکی ہے۔ جنگلی حیات کے شائقین نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

جنگلی حیات کے کارکنوں نے کہا، ”تمل ناڈو کے جنگلاتی علاقوں میں اے آئی کیمروں کے ذریعے جنگل سے ہاتھیوں کے باہر آنے کی نگرانی کی جاتی ہے اور انہیں واپس جنگل میں بھیجا جاتا ہے۔ جب ہاتھی ریلوے ٹریک پار کرتے ہیں، تب الرٹ جاری کیا جاتا ہے اور ہاتھیوں کو ٹرین کی زد میں آنے سے بھی روکا جاتا ہے۔ اسی طرح کا نظام کیرل کے جنگلاتی علاقوں میں بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔“

حادثے والی جگہ سے تقریباً 300 میٹر کے فاصلے پر ہی تمل ناڈو کی سرحد ہے۔ تمل ناڈو کے جنگلاتی علاقے کی بات کریں تو مدوکرائی فاریسٹ رینج میں ریلوے ٹریک کے دونوں راستوں پر 16 کروڑ روپے کی لاگت سے اے آئی کیمروں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے ہاتھیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ سے تمل ناڈو کے جنگلاتی علاقے میں ٹرین کی زد میں آنے سے ہاتھیوں کی موت کے واقعات کافی کم ہوئے ہیں۔

کوئمبٹور سے کیرلم کے لیے پوتھنور اور والایر علاقوں سے ہو کر چلنے والی ٹرینیں مدوکرائی جنگلاتی علاقے سے گزرتی ہیں۔ اس راستے پر ٹرینوں کی آمد و رفت کی سہولت کے لیے اے اور بی نام سے دو ریلوے ٹریک بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے اے ریلوے ٹریک 2.9 کلومیٹر اور بی ریلوے ٹریک 4.15 کلومیٹر کے فاصلے تک جنگلاتی علاقے کے اندر واقع ہیں۔ اسی طرح کیرلم کے تحت والایر سے کنجی کوڈ تک ریلوے ٹریک بھی جنگلاتی علاقے سے ہو کر گزرتا ہے۔

مدوکرائی سے کنجی کوڈ تک کے علاقے میں گزشتہ 20 سالوں میں 35 جنگلی ہاتھیوں کی ٹرین کی زد میں آنے سے موت ہو چکی ہے۔ اسے روکنے کے لیے پلکڑ ریلوے انتظامیہ اور محکمہ جنگلات کئی طرح کے اقدامات کر رہے ہیں۔ جنگلی ہاتھیوں کی نقل و حرکت زیادہ ہونے والے مدوکرائی بی ریلوے ٹریک پر والایر-ایٹیمڈئی کے درمیان دو مقامات پر انڈر پاس بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 12 واچ ٹاور لگائے گئے ہیں اور 24 اے آئی کیمرے قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے ذریعے 7.05 کلومیٹر علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande