
کولکاتا، 13 اگست (ہ س)۔
مغربی بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر شَمِک بھٹاچاریہ پر سال 2020 میں ہوئے حملے کے معاملے میں ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور ڈائمنڈ ہاربر کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے خلاف شکایت درج کرائی گئی ہے۔ جنوبی 24 پرگنہ کے ڈائمنڈ ہاربر تھانے میں ابھیجیت داس عرف بوبی نے 10 صفحات پر مشتمل شکایت دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب نادیہ اور مرشدآباد میں سرکاری زمین سے مٹی کاٹ کر فروخت کرنے کے معاملے میں کرشنا نگر عدالت نے ابھیشیک بنرجی سمیت 30 افراد کے خلاف پولیس کو تفتیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
بابی نے ڈائمنڈ ہاربر تھانے کے انچارج انسپکٹر کو دی گئی شکایت میں الزام عائد کیا ہے کہ 6 اکتوبر 2020 کو ڈائمنڈ ہاربر جاتے وقت شَمِک بھٹاچاریہ اور ان کے ساتھیوں پر منصوبہ بند طریقے سے حملہ کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملہ ابھیشیک بنرجی کی ہدایت پر کرایا گیا تھا۔ شکایت میں ابھیشیک کے علاوہ جہاںگیر خان، سمت رائے، گوتم ادھیکاری، شمیم احمد سمیت مجموعی طور پر 79 افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حملے کے بعد وشنوپور تھانے کو اس کی اطلاع دی گئی تھی۔ بوبی کا الزام ہے کہ اس وقت پولیس نے معاملے میں مطلوبہ کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے اپنی شکایت کی ایک نقل ڈائمنڈ ہاربر پولیس ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو بھی بھیجی ہے۔
اسی دوران سرکاری زمین سے غیر قانونی طور پر مٹی اور درخت کاٹ کر فروخت کرنے کے معاملے میں کرشن نگر عدالت نے پولیس کو تفتیش کی ہدایت دی ہے۔ عدالت کے مطابق کالی گنج کے رہنے والے باپن گھوش نے 15 جولائی کو شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ سال 2016 سے نادیہ کے کالی گنج بلاک اور مرشدآباد کے شکتی پور علاقے میں پھیلی تقریباً 33 ہزار بیگھہ سرکاری اور نمبری زمین سے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر مٹی کاٹ کر فروخت کی گئی۔
شکایت کنندہ نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ سرکاری زمین پر موجود کئی قیمتی درخت بھی کاٹ دیے گئے۔ ان کے مطابق مٹی اور درختوں کی مبینہ غیر قانونی فروخت سے بھاری رقم وصول کی گئی اور اس پورے معاملے میں ابھیشیک بنرجی کا براہ راست کردار اور سرپرستی تھی۔
اس معاملے میں ابھیشیک بنرجی کے علاوہ کالی گنج کی موجودہ ترنمول کانگریس رکن اسمبلی الیفہ احمد اور سابق رکن اسمبلی حسن الزماں شیخ سمیت مجموعی طور پر 30 افراد کے خلاف شکایت کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ کے وکیل شیریندو داس کے مطابق مٹی اور درختوں کی کٹائی کے سلسلے میں محکمہ جنگلات اور مقامی پولیس انتظامیہ کو کئی مرتبہ تحریری شکایتیں دی گئی تھیں، لیکن کوئی مو¿ثر کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ شکایت کنندہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ