سپریم کورٹ پرامن مظاہروں میں چہرے کی شناخت اور بائیو میٹرک نگرانی کے استعمال سے متعلق عرضی پر سماعت کرنے پر رضامند
نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے پرامن احتجاج کے دوران چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی اور بائیو میٹرک نگرانی کے استعمال کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ نے اس عرضی کو اس معاملہ سے
سپریم کورٹ


نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے پرامن احتجاج کے دوران چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی اور بائیو میٹرک نگرانی کے استعمال کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں بنچ نے اس عرضی کو اس معاملہ سے منسلک دیگر معاملات کے ساتھ جوڑنے کا حکم دیا ہے۔

یہ عرضی راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اے اے رحیم نے دائر کی ہے۔ وکیل سبھاش چندرن کے آر کے ذریعے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پرامن احتجاج کے دوران چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی اور بائیو میٹرک نگرانی کا استعمال غیر آئینی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کے استعمال کی اجازت اس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک کہ پارلیمنٹ اس سلسلے میں کوئی قانون نہ بنائے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ جس طریقے سے دہلی پولیس نے جنتر منتر کے مظاہرین کی نگرانی کی اس پر کوئی قانون نہیں ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ نہ تو دہلی پولیس کے اسٹینڈنگ آرڈرز اور نہ ہی کرمنل پروسیجر (آئیڈینٹیفیکیشن) ایکٹ بائیو میٹرک نگرانی کی اجازت دیتا ہے۔ دہلی پولیس مظاہرین کی بائیو میٹرک طور پر شناخت کرنے اور انہیں قومی مجرمانہ ڈیٹا سے جوڑنے کے لیے خودکار ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔ اس کے ذریعے دہلی پولیس مظاہرین، صحافیوں اور عام شہریوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ اپنے رائٹ ٹو انفارمیشن رسپانس میں دہلی پولیس نے خود کہا ہے کہ چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کا استعمال لاپتہ افراد یا مرنے والوں کی شناخت کے لیے کیا جاتا ہے۔ عرضی میں کے ایس پٹوسوامی بمقابلہ یونین آف انڈیا کے معاملے میں پرائیویسی کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے اور دہلی پولیس کے فیصلے پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

ہندوستان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande