آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعات کا مطالعہ کرکے مقررہ وقت میں معلومات فراہم کریں افسران: محمد ندیم
علی گڑھ, 13 اگست (ہ س)۔ اتر پردیش کے ریاستی انفارمیشن کمشنر محمد ندیم کی صدارت میں جمعرات کو علی گڑھ کلکٹریٹ آڈیٹوریم میں ضلع کے تمام پبلک انفارمیشن افسران اور فرسٹ اپیلیٹ افسران کے ساتھ آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کے مؤثر نفاذ اور زیرِ التوا معاملات
کمشنر


علی گڑھ, 13 اگست (ہ س)۔

اتر پردیش کے ریاستی انفارمیشن کمشنر محمد ندیم کی صدارت میں جمعرات کو علی گڑھ کلکٹریٹ آڈیٹوریم میں ضلع کے تمام پبلک انفارمیشن افسران اور فرسٹ اپیلیٹ افسران کے ساتھ آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کے مؤثر نفاذ اور زیرِ التوا معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ ریاستی انفارمیشن کمشنر نے افسران کو ہدایت دی کہ آر ٹی آئی درخواستوں کا قانون کے مطابق مقررہ مدت میں مکمل ازالہ محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کے سامنے بڑی تعداد میں شکایات اور دوسری اپیلیں پہنچ رہی ہیں، جبکہ کمیشن کے ڈیٹا بیس سروے کے مطابق تقریباً 70 فیصد شکایات کا ازالہ درخواست گزار کو مطلوبہ معلومات فراہم کیے جانے کی بنیاد پر ہوا۔ اگر پبلک انفارمیشن افسران وقت پر معلومات فراہم کریں تو کمیشن کے سامنے زیرِ التوا معاملات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ تقریباً 90 فیصد معاملات میں یہ سامنے آیا کہ درخواست گزار کو مؤثر طور پر سنا نہیں گیا یا وقت پر معلومات فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ کئی معاملات میں فرسٹ اپیلیٹ افسران نے بھی اپنی ذمہ داری مناسب طریقے سے ادا نہیں کی۔

ریاستی انفارمیشن کمشنر نے کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کوئی پیچیدہ قانون نہیں ہے، اس لیے تمام متعلقہ افسران اس کی دفعات کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع میں اب تک 314 افسران پر جرمانہ عائد کیا جا چکا ہے، جبکہ ضلع سے متعلق 264 دوسری اپیلیں کمیشن میں زیرِ سماعت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غلط، نامکمل یا تاخیر سے معلومات فراہم کرنے پر افسران کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

میٹنگ میں دوسری اپیل اور شکایت کے فرق، مختلف دفعات کے تحت مانگی گئی معلومات، غلط محکمہ سے متعلق درخواست موصول ہونے اور ایک درخواست میں ایک سے زائد معلومات مانگے جانے کی صورت میں اختیار کی جانے والی کارروائی کے بارے میں بھی افسران سے سوالات کیے گئے اور قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔

اس کے علاوہ بنیادی تعلیم، ثانوی تعلیم، سماج کلیان، بال وکاس و پُشٹاہار، ضلع پنچایتی راج، اطلاعات، میونسپل کارپوریشن اور پولیس محکموں سے متعلق زیرِ التوا معاملات کا محکمہ وار جائزہ لیا گیا۔ پولیس محکمہ کی جانب سے آر ٹی آئی معاملات کے مناسب ریکارڈ اور مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کے انتظام کی ستائش کی گئی۔

ریاستی انفارمیشن کمشنر نے کہا کہ آر ٹی آئی درخواستوں کو عام خط و کتابت نہ سمجھا جائے بلکہ قانونی ذمہ داری کے طور پر لیتے ہوئے مقررہ وقت میں مکمل اور معیاری معلومات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کا مطالعہ، وقت پر معلومات اور جواب دہی ہی غیر ضروری اپیلوں اور شکایات کو کم کرنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ فنانس اینڈ ریونیو پرمود کمار نے یقین دلایا کہ کمشنر کی ہدایات پر ضلع میں مکمل طور پر عمل کرایا جائے گا اور آر ٹی آئی ایکٹ کی روح شفافیت، جواب دہی اور شہریوں کو وقت پر معلومات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ میٹنگ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جوڈیشل انیل کمار، سٹی مجسٹریٹ اتل گپتا سمیت ضلع کے فرسٹ اپیلیٹ افسران اور پبلک انفارمیشن افسران موجود رہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande