راجیہ سبھا غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی، چیئرمین کا ایوان میں تعطل پراظہار تشویش
نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ راجیہ سبھا نے جمعرات کو کان و معدنیات (ترقی و ضابطہ کاری) ترمیمی بل، 2026 منظور کرنے کے بعد اپنے 271ویں اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان میں مسلسل تعطل اور
راجیہ سبھا غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی، چیئرمین کا ایوان میں تعطل پراظہار تشویش


نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔

راجیہ سبھا نے جمعرات کو کان و معدنیات (ترقی و ضابطہ کاری) ترمیمی بل، 2026 منظور کرنے کے بعد اپنے 271ویں اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان میں مسلسل تعطل اور ہنگامے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ سے اہم قومی مسائل پر بامعنی بحث و مباحثے کے لیے دستیاب قیمتی وقت ضائع ہوا۔

چیئرمین نے اختتامی خطاب میں کہا کہ اجلاس کے دوران مسلسل بدنظمی اور بار بار ہونے والے خلل کے باعث ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی۔ اس کے باوجود راجیہ سبھا نے اپنی بنیادی قانون سازی کی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے 12 بلوں پر غور کیا اور انہیں منظور یا واپس کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام ارکان اجتماعی طور پر حصہ لیتے، اپنی اہم تجاویز پیش کرتے اور بامعنی تبادلہ خیال کرتے تو صورتحال یقیناً مختلف ہوتی۔

رادھا کرشنن نے بتایا کہ اجلاس کے دوران راجیہ سبھا نے صرف 37 گھنٹے 49 منٹ کام کیا اور ایوان کی پیداواری صلاحیت 39.17 فیصد رہی۔ ارکان کو 285 وقفہ سوالات، 380 زیرو آور کے معاملات اور 380 خصوصی تذکروں کو اٹھانے کا موقع ملا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان میں سے صرف 16 سوالات، 52 زیرو آور کے معاملات اور 93 خصوصی تذکروں پر ہی ایوان میں کارروائی ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ ایوان میں اپنی بات رکھنے کا موقع موجود تھا، لیکن جن لوگوں کی ہم نمائندگی کرتے ہیں، ان کی آواز اٹھانے کے لیے ملنے والے مواقع کا ہم نے مکمل استعمال نہیں کیا۔

چیئرمین نے کہا کہ ایوانِ بالا کی حیثیت سے راجیہ سبھا کی یہ منفرد ذمہ داری ہے کہ وہ مدلل بحث، باوقار اختلافِ رائے اور غوروفکر پر مبنی قانون سازی کی روایت کو برقرار رکھے۔ بار بار ہونے والے خلل سے بالآخر عوام کے اعتماد اور ان کی توقعات متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے ارکان سے اعلیٰ ترین پارلیمانی طرزِ عمل کے معیار کو برقرار رکھنے اور ایوان کے وقار و تقدس کے تحفظ کی اپیل کی۔

رادھا کرشنن نے اجلاس کی نمایاں کامیابیوں میں نو منتخب اور نامزد ارکان کے لیے منعقد کیے گئے دو روزہ تعارفی پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں پارلیمانی طریقہ کار، ضابطوں اور ارکان سے متوقع طرزِ عمل کے معیار کے بارے میں مفید معلومات فراہم کی گئیں۔ مجموعی طور پر 35 ارکان نے اس پروگرام میں حصہ لیا۔ انہوں نے پروگرام میں اپنے پارلیمانی تجربات اور عملی معلومات شیئر کرنے والے ہری ونش، مرکزی وزیر بھوپیندر یادو اور ارکان پارلیمنٹ گھن شیام تیواری، پرمود تیواری، ارون سنگھ، ڈاکٹر سمبت پاترا، سوجیت کمار اور ڈاکٹر جان برٹاس کا بھی ذکر کیا۔

چیئرمین نے ایوان میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی اجلاس کی اہم خصوصیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’وانی سیتو‘ کے ذریعے پہلی مرتبہ اے آئی پر مبنی زبانوں کے ترجمے کی سہولت شروع کی گئی، جس کے ذریعے ارکان علاقائی زبان میں دی گئی تقریر کو اپنی پسند کی زبان میں سن سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ارکان نے ’سدَسیہ سیتو‘ موبائل ایپلی کیشن کا بھی استعمال کیا، جس کے ذریعے حاضری درج کرنے اور دیگر پارلیمانی امور کو تیز رفتار اور محفوظ طریقے سے انجام دینے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ ان تکنیکی اقدامات کو مستقبل میں مزید ترقی دی جائے گی اور ارکان کی تجاویز سے ان سہولتوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

اس سے قبل ایوان میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے 8 اگست کو ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کانگریس صدر کی ریلی کے بعد مبینہ طور پر منعقد کیے گئے ’شدھی کرن‘ پروگرام کا معاملہ اٹھایا۔ کھرگے نے اس واقعے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے چھوا چھوت قرار دیا اور ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اس واقعے میں بی جے پی کے ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔ ایوان کے قائد جے پی نڈا نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی۔ انہوں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے اور تحقیقات میں قصوروار پائے جانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے کانگریس سے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دینے کی اپیل کی۔

ہلدوانی کے واقعے کو لے کر ہونے والی اس تلخ بحث سے ایوان کا ماحول کشیدہ رہا۔ تاہم، اس کے درمیان راجیہ سبھا نے اہم قانون سازی کا کام مکمل کرتے ہوئے کان و معدنیات ترمیمی بل، 2026 منظور کر لیا۔ مرکزی وزیر کوئلہ و کان، جی کشن ریڈی نے بل کو غور اور منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا۔

ریڈی نے کہا کہ بل کا مقصد کسی ریاست کی مالی صورتحال، زمین یا معدنیات سے متعلق معاملات میں مرکزی حکومت کی مداخلت کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ معدنیات کی شرحیں پورے ملک میں یکساں ہوں۔ بل میں معدنی حقوق اور معدنیات سے مالا مال زمین پر ریاستوں کی جانب سے ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات کو محدود کرنے سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا نے اس بل کو 12 اگست کو منظور کیا تھا۔ اس کے بعد اسے راجیہ سبھا میں غور کے لیے بھیجا گیا، جہاں جمعرات کو اسے منظوری مل گئی۔

اجلاس کے اختتام پر چیئرمین نے ڈپٹی چیئرمین اور پریزائیڈنگ وائس چیئرمینوں کے پینل، جنرل سکریٹری اور سکریٹریٹ کے افسران و ملازمین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تمام ارکان کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگلے اجلاس میں تمام ارکان ایوان کے وقار کو برقرار رکھنے اور جمہوریت کی اعلیٰ روایات کے مطابق اپنی پارلیمانی ذمہ داریاں ادا کرنے کے نئے عزم کے ساتھ واپس آئیں گے۔

اختتام کے بعد ایوان میں مکمل ’وندے ماترم‘ گایا گیا اور راجیہ سبھا کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande