لوک سبھا اسپیکر کو 14,100 سے زائد ماہرین تعلیم کے دستخط والی عرضداشت، پرینکا گاندھی کے تبصرے پر اعتراض
نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کی جانب سے آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کاماکوٹی کے بارے میں لوک سبھا میں کیے گئے تبصرے پر تعلیمی اور سائنسی برادری سے وابستہ 14,100 سے زائد افراد نے دستخط کرکے لوک سبھا
لوک سبھا اسپیکر کو 14,100 سے زائد ماہرین تعلیم کے دستخط والی عرضداشت، پرینکا گاندھی کے تبصرے پر اعتراض


نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا کی جانب سے آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کاماکوٹی کے بارے میں لوک سبھا میں کیے گئے تبصرے پر تعلیمی اور سائنسی برادری سے وابستہ 14,100 سے زائد افراد نے دستخط کرکے لوک سبھا اسپیکر کو ایک عرضداشت بھیجی ہے۔ عرضداشت میں تبصرے کا نوٹس لینے اور متعلقہ رکن پارلیمنٹ سے تبصرہ واپس لینے کے ساتھ اس پر افسوس کا اظہار کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

یہ عرضداشت پروفیسر راجیو سنگھ کی جانب سے ’سائنس اینڈ اکیڈمک کمیونٹی‘ کے نمائندے کی حیثیت سے بھیجی گئی ہے۔ 5 اگست 2026 کو بھیجے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ اس عرضداشت کو مختصر مدت میں ماہرین تعلیم، سائنس دانوں اور محققین سمیت بڑی تعداد میں لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ ان میں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور سابق وائس چانسلر، اداروں کے ڈائریکٹر، پروفیسر، سائنس دان، محققین، اساتذہ اور تعلیم کے ماہرین شامل ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ لوک سبھا میں امتحانی اصلاحات پر بحث کے دوران پرینکا گاندھی واڈرا نے آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کاماکوٹی کے لیے ”گو¿ موتر ا یکسپرٹ“ کا لفظ استعمال کیا۔ عرضداشت گزاروں نے اسے ایک معروف سائنس داں اور ملک کے اہم اعلیٰ تعلیمی ادارے کے سربراہ کے خلاف ذاتی اور توہین آمیز تبصرہ قرار دیا ہے۔

عرضداشت میں پروفیسر کاماکوٹی کی سائنسی اور تعلیمی خدمات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے کمپیوٹر سائنس، سائبر سکیورٹی اور قومی تعلیم سے متعلق کئی شعبوں میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ عرضداشت گزاروں کا کہنا ہے کہ کسی تعلیمی ادارے کے سربراہ کے خلاف اس طرح کا ذاتی تبصرہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری سائنسی اور تعلیمی برادری کے حوصلے کو متاثر کرتا ہے۔

عرضداشت کو غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد جمہوری بحث یا حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو روکنا نہیں ہے۔ عرضداشت گزاروں کے مطابق پارلیمنٹ میں پالیسیوں، تقرریوں اور ادارہ جاتی فیصلوں پر سخت بحث ہو سکتی ہے، لیکن اختلافِ رائے کو ذاتی تبصرے یا تمسخر کے بجائے دلیل کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔

عرضداشت میں لوک سبھا اسپیکر سے دو اہم مطالبات کیے گئے ہیں۔ پہلا، تعلیمی برادری کی جانب سے ظاہر کی گئی تشویش کا نوٹس لیا جائے۔ دوسرا، جس رکن پارلیمنٹ نے یہ تبصرہ کیا ہے، ان سے اس بیان کو واپس لینے اور اس پر افسوس کا اظہار کرنے کی درخواست کی جائے۔

عرضداشت گزاروں نے کہا ہے کہ لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے پارلیمانی زبان اور آداب کے اعلیٰ معیار کے حوالے سے واضح پیغام دیا جانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس سے ملک کے سائنس دانوں، اساتذہ اور محققین کے احترام کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے وقار کو بھی تقویت ملے گی۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 14,100 سے زائد افراد کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیمی اور سائنسی برادری عوامی زندگی میں باوقار زبان اور اداروں کے وقار کو لے کر سنجیدہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande