ایف سی آر اے بل پر ملی بھگت سے سیاست کی گئی، جلد بازی میں جے پی سی کو بھیجا گیا: مایاوتی
لکھنؤ، 13 اگست (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے جمعرات کو الزام لگایا کہ اپوزیشن اور حکمراں جماعتوں نے مل کر ایف سی آر اے یعنی فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل پر سیاست کی ہے۔ اس کی وجہ سے اس بل کو جلد بازی میں مشترک
POLITICAL-MAYAWATI-FCRA-BILL-POST-X


لکھنؤ، 13 اگست (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے جمعرات کو الزام لگایا کہ اپوزیشن اور حکمراں جماعتوں نے مل کر ایف سی آر اے یعنی فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل پر سیاست کی ہے۔ اس کی وجہ سے اس بل کو جلد بازی میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں چلنے دینے کی وجہ سے حکومت کئی اہم بل بغیر بحث کے پاس کر رہی ہے۔ یہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن کی ملی بھگت معلوم ہوتی ہے۔

مایاوتی نے جمعرات کو ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ایف سی آر اے ترمیمی بل، جسے حکومت بہت اہم بتا کر دوسرے بلوں کی طرح فوری طور پر منظور کرانا چاہتی تھی، لیکن اپوزیشن کی مخالفت کے سبب اور پارلیمنٹ میں اس پر ابتدائی بحث کے بغیر ہی ، اسے کل جلد بازی میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے پاس بھیج دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایف سی آر اے ترمیمی بل کو کانگریس پارٹی اور اس کی حلیف جماعتیں براہ راست اقلیت مخالف قرار دےکر اسے واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ حکومت اسے غیر ملکی فنڈنگ کے استعمال میں مبینہ بدعنوانی سے جوڑ کر اس میں سخت تبدیلیاں لانا چاہتی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکمراں جماعت اور اپوزیشن، دونوں نے اس بل پر سیاست کی ہے۔

مایاوتی نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ اپوزیشن کل اس بل کو پیش کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی کارروائی کو چلنے دیتی اور اس کی خامیوں کو اجاگر کرتی، تو پورا ملک ان کے بارے میں جان لیتا۔ لیکن انہوں نے اپنی ضد کے مطابق پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسے کئی اور بل بھی اپوزیشن کے ذریعہ پارلیمنٹ کی کارروائی نہیں چلنے دینے کی وجہ سے حکومت نے منٹوں کے اندر ہی منظور کرادیئے، جنہیں ان کو روکنا چاہیے تھا۔ اپوزیشن نے ایسا نہیں کیا اور حکومت اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔

اس سے یا تو اپوزیشن کی اندرونی ملی بھگت کا پتہ چلتا ہے یا پھر جین -زی ووٹ بینک کے حصول کے مفاد میںانہیں دیگر قومی مدے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ موجودہ حالات میںجین -زی کے مسائل کے مدعوں کو ترجیح دیتے ہوئے انہیں عوامی مفاد کے دیگر مدعوں کو بھی ترجیح دینی چاہیے تھی۔ اس کے ساتھ ہی ، انہیں ایودھیا میں رام مندر چڑھاوے میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی پارلیمنٹ میں اٹھانا چاہیے تھا، جسے اپوزیشن نے اب اپنے سیاسی مفادات میں پس پشت ڈال دیا ہے۔

بی ایس پی سربراہ نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے عوام ، حکمران پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان اس وقت پارلیمنٹ اجلاس کے دوران بھی چل رہی ان کے اپنے اپنے سیاسی مفادات کی لڑائی سے پوریہ طرح محتاط رہتے ہوئے واحد امبیڈکر وادی بہوجن سماج پارٹی ، جو ’سروجن ہتائے اور سروجن سکھائے‘ کی پالیسیوں اور اصولوں کی بنیاد پر پوری ایمانداری اور دیانت داری سے کاربند ہے، اس سے ملک اور عام عوامی مفاد میں وابستہ ہوں۔ یہی وقت کی مانگ اور تمام سماج کے مفاد میں بھی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande