
اصلی نوٹوں سے سیاہی منتقل کرکے جعلی کرنسی تیار کرنے کا انکشاف، کیمیکل اور پرنٹنگ کا سامان ضبطناسک ، 13 اگست (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ناسک ضلع میں ناسک تریَمبکیشور روڈ پر تالیگاؤں شیوار کے ایک بنگلے میں خفیہ طور پر چلائی جارہی جعلی نوٹ بنانے کی فیکٹری کا پولیس نے پردہ فاش کردیا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے لاکھوں روپے کے جعلی نوٹ، انہیں تیار کرنے میں استعمال ہونے والا کیمیکل، پرنٹنگ کا سامان اور دیگر متعلقہ مواد ضبط کیا ہے۔ معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ناسک دیہی پولیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔ناسک دیہی پولیس کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ڈی ایس سوامی نے جمعرات کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فیکٹری میں انتہائی منفرد طریقے سے اصلی نوٹوں سے جعلی نوٹ تیار کیے جارہے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان اصلی نوٹوں کو ایک خاص کیمیکل میں ڈبوتے تھے، جس کے بعد ان کی سیاہی دوسرے کاغذ پر منتقل کرکے ایسے جعلی نوٹ تیار کیے جاتے تھے جو دیکھنے میں اصلی نوٹوں جیسے لگتے تھے۔پولیس کے مطابق یہ گروہ دس لاکھ روپے کے اصلی نوٹ لینے کے بدلے تیس لاکھ روپے کے جعلی نوٹ دینے کا وعدہ کرکے لین دین کرتا تھا۔ اسی طرح کے ایک لین دین کے دوران پولیس نے منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے چھاپہ مارا اور پانچ افراد کو گرفتار کرلیا۔گرفتار ملزمان کی شناخت امریشور ایتھا، دساری ستیہ، گوکل داتے، ہیرامن داتے اور مچھندر گھَنڈت کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے جعلی نوٹ تیار کرنے والا کیمیکل، پرنٹنگ کا سامان، لاکھوں روپے کے جعلی نوٹ اور دیگر متعلقہ مواد ضبط کیا ہے۔پولیس کے مطابق غیر قانونی فیکٹری تریَمبکیشور روڈ پر تالیگاؤں شیوار کے ایک نجی بنگلے میں چلائی جارہی تھی۔ ابتدائی تفتیش میں ناسک سے تلنگانہ تک پھیلے ایک بڑے نیٹ ورک کا سراغ ملنے کی بات سامنے آئی ہے۔ پولیس اب اس بات کا پتہ لگارہی ہے کہ مبینہ ریکیٹ میں مزید کون کون افراد شامل ہیں، جعلی نوٹ کہاں تیار کیے جاتے تھے اور انہیں کہاں پہنچایا جاتا تھا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے