
پولیس اہلکار بھی حملہ روکنے کی کوشش میں زخمی، سکیورٹی سختناندیڑ ، 13 اگست (ہ س) ۔ پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور شرومنی اکالی دل کے صدر سکھبیر سنگھ بادل پر جمعرات کو ناندیڑ کے تخت سچکھنڈ شری حضور صاحب گرودوارہ میں کرپان سے حملہ کیا گیا۔ حملے میں بادل کے ہاتھ پر معمولی چوٹ آئی، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انہیں طبی امداد فراہم کی گئی اور بعد میں شرومنی اکالی دل نے ان کی حالت مستحکم اور بہتر بتائی۔ اطلاعات کے مطابق سکھبیر سنگھ بادل گرودوارہ احاطے میں موجود تھے، اسی دوران نہنگ لباس میں موجود ایک شخص نے ان پر تیز دھار کرپان سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ بادل کی حفاظت پر مامور اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو کرلیا۔ حملہ آور کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، جبکہ حملہ روکنے کی کوشش میں ایک پولیس انسپکٹر کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ حملہ آور کی شناخت 62 سالہ جسپال سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس اس سے پوچھ گچھ کررہی ہے اور حملے کے مقصد اور پس منظر کی تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ اچانک کیا گیا اور سکیورٹی اہلکاروں کی فوری مداخلت سے بادل کو مزید نقصان پہنچنے سے بچا لیا گیا۔واقعے کے فوراً بعد گوردوارہ احاطے اور اطراف میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے افسران نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی واقعے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت دی اور سکھبیر سنگھ بادل سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی۔ یہ سکھبیر سنگھ بادل پر چند ماہ کے اندر دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل 4 دسمبر 2024 کو امرتسر میں سری ہرمندر صاحب کے باہر ان پر فائرنگ کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت بادل اکال تخت صاحب کی جانب سے سنائی گئی مذہبی سزا کے تحت سیوادار کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہے تھے۔ وہ وہیل چیئر پر بیٹھے گرودوارہ کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے، جب نارائن سنگھ چورا نامی شخص نے ان پر گولی چلانے کی کوشش کی تھی۔اس وقت بھی سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو کرلیا تھا اور گولی بادل کو لگنے کے بجائے دوسری سمت چلی گئی تھی۔ بادل اس حملے میں محفوظ رہے تھے اور بعد میں مختلف گوردواروں میں اپنی مذہبی خدمت جاری رکھی تھی۔ ناندیڑ میں تازہ حملے کے بعد سکھبیر سنگھ بادل کی سکیورٹی اور مذہبی مقامات پر اہم شخصیات کی حفاظت کے انتظامات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پولیس کی جاری تحقیقات اور حملہ آور سے پوچھ گچھ کے بعد ہی حملے کی مکمل وجہ اور پس منظر واضح ہونے کی توقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے