
جماعت کے نائب امیر ایس امین الحسن نے بل پر نظر ثانی کا کیا مطالبہ
نئی دہلی13اگست (ہ س )۔
جماعت اسلامی ہند نے حکومت کی جانب سے فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026 کو مزید غور و خوض کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی ) کے حوالے کئے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم جماعت نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اپوزیشن، سول سوسائٹی اور مذہبی اقلیتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں بل کا شفاف طریقے سے ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ایس امین الحسن نے کہا کہ ایف سی آر اے ترمیمی بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جانا ایک خوش آئند قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جے پی سی حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرنے سے پہلے سول سوسائٹی، اقلیتی اداروں، آئینی ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کرے گی اور بل کی متنازع شقوں کا شفافیت کے ساتھ جائزہ لے گی۔
ایس امین الحسن نے کہا کہ ہمیں بل کی اس شق پر شدید تشویش ہے جس کے تحت حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اتھارٹی کو ان تنظیموں کے اثاثوں کا کنٹرول سنبھالنے کا اختیار دیا گیا ہے جن کی ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ، سرنڈر یا تجدید نہ کی گئی ہو۔ ان اثاثوں میں ایسے اسکول، اسپتال اور رفاہی ادارے بھی شامل ہیں جو غیر ملکی عطیات کے ذریعے قائم کئے گئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت کے بغیر اختیارات کو ایک ہی ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے دینے سے ایف سی آر اے کے تحت کام کرنے والی تنظیموں کے لیے معمولی نوعیت کی غلطی بھی ضابطہ کی سنگین کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایف سی آر اے ترمیم کو شہری آزادیوں اور آئینی تحفظات کے وسیع تر تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ان میں آئین کے آرٹیکل 300A کے تحت حقِ ملکیت، آرٹیکل 14 کے تحت مساوات کا قانون، آرٹیکل 25 کے تحت مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی اور آرٹیکل 26 کے تحت مذہبی فرقوں کو اپنے مذہبی امور اور املاک کے انتظامات کے حقوق شامل ہیں۔
ایس امین الحسن نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو حالیہ کئی برسوں سے شہری حقوق، مذہبی آزادی، حقوقِ ملکیت وغیرہ سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ اسی طرح عیسائی برادری کو بھی تبدیلی مذہب جیسے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مسلمان، سکھ، پارسی اور عیسائی اداروں سمیت متعدد مذہبی اقلیتی تنظیموں نے طویل عرصے سے معاشرے کے کمزور طبقات کی بلاامتیاز ذات اور مذہب خدمت کرتے ہوئے تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے کاموں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی عطیات سے متعلق قوانین کو حکومت کی جانب سے مذہبی سرگرمیوں یا انسانی فلاح و بہبود کے کاموں پر بندش لگانے کا سیاسی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔ ہمیں امید ہے کہ جے پی سی کا عمل شفاف پارلیمانی جائزہ اور بامعنی مشاورت کا باعث بنے گا۔ملک کو ایسے ریگولیٹری نظام کی سخت ضرورت ہے جو غیر ملکی فنڈنگ میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنائے، لیکن ساتھ ہی سول سوسائٹی، مذہبی آزادی، انسانی خدمت اور آئینی تحفظات کو کمزور نہ کرے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais