مرکزی وزیر سنجے سیٹھ نے جھارکھنڈ حکومت پر نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کا الزام عائد کیا
نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ دفاع کے وزیر مملکت اور جھارکھنڈ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سیٹھ نے جھارکھنڈ حکومت پر نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کرنے اور سرکاری بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے با
JPSC-PAPER-LEAK-FIR-SanJAY-SET


نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ دفاع کے وزیر مملکت اور جھارکھنڈ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سیٹھ نے جھارکھنڈ حکومت پر نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کرنے اور سرکاری بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے جھارکھنڈ میں ہوئے احتجاج کے دوران نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آر اور امتحان کے نتائج میں بے ضابطگیوں کے لیے براہ راست حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا۔

سنجے سیٹھ نے الزام عائد کیا کہ جھارکھنڈ میں احتجاج کے بعد تقریباً 600 نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان پرامن احتجاج کرنے آئے تھے اور نہ توانہوں نے تشدد کیا اور نہ ہی پتھراو¿ کیا۔ ایسے میں ان کے خلاف مقدمات درج کرناناانصافی ہے۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر حفاظتی انتظامات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ احتجاج سے قبل شہر بھر میں بیریکیڈ اور ریزر وائر لگائے گئے تھے۔ اب تو وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے اطراف کی سڑکوں کو بھی ریزر وائر سے بند کر دیا گیا ہے جس سے عوامی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔

سنجے سیٹھ نے سی ڈی پی او امتحان کے نتائج کو لے کر بھی سنگین الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے نمبر پر آنے والے پرمود کمار پاٹھک کے مبینہ طور پر اتر پردیش میں ایک سولور گینگ سے تعلقات رہے ہیں اور وہ پہلے بھی جیل جا چکا ہے۔ سیٹھ نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود وہ جھارکھنڈ حکومت میں ایک عہدے پر فائز ہے۔ بی جے پی لیڈر نے ان الزامات کی منصفانہ جانچ کو یقینی بنانے کے لیے سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ کے نوجوانوں کو بھرتی کے عمل میں شفافیت چاہیے اور اس معاملے میں سی بی آئی تحقیقات سے کم انہیں کچھ بھی قبول نہیں ہوگا ۔

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande