
ہائی کورٹ کا 8 سرکاری احکامات پر حکمِ التوا، کلیان لکشمی اسکیم ختم کرنے کی سازشحیدرآباد ،13 اگست (ہ س)۔
تلنگانہ میں کلیان لکشمی اورشادی مبارک اسکیموں کے نفاذ سے متعلق 8 سرکاری احکامات(جی اوز) پر ہائی کورٹ کی جانب سے حکمِ التوا جاری کیے جانے کے بعد سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعلی اے ریونت ریڈی کی حکومت جان بوجھ کرعدالت میں اپنا موقف پیش کرنے میں تاخیرکررہی ہے۔ اپوزیشن کے مطابق،ان اسکیموں کی آئینی حیثیت سے متعلق دائرمقدمے میں عدالت نے حکومت کواپنا کاؤنٹر داخل کرنے کے لیے چارہفتوں کاوقت دیاتھا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ عدالت نے حکومت کو کاؤنٹر داخل کرنے کی ہدایت دی تھی، لیکن ایڈوکیٹ جنرل نے ایک مرتبہ پھرمزید وقت مانگا۔ حکومت کی جانب سے تاخیرپرہائی کورٹ نے ناراضگی کا اظہارکیا اورکلیان لکشمی کی ادائیگیوں پربھی حکمِ التوا عائد کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ریونت ریڈی حکومت پرغریب ایس سی، ایس ٹی، اقلیتی اوربی سی طبقات سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے مفادات کونقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ کرکے کلیان لکشمی اسکیم کوختم کرنے کی راہ ہموارکررہی ہے۔ اپوزیشن نے مزید الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے سابق وزیراعلی کے. چندراشیکھرراؤ کی جانب سے شروع کی گئی کئی فلاحی اسکیموں کو نظراندازیا ختم کردیا ہے، جن میں کنتی ویلوگو،کے سی آرکٹ،رعیتو بندھو، رعیتوبیمہ اوردلت بندھو شامل ہیں۔ اپوزیشن کے مطابق کانگریس حکومت کے اقتدارمیں آنے کے بعد سے کلیان لکشمی اورشادی مبارک کے چیکس کی تقسیم بھی سست روی کا شکارہے۔ 2024 اور2025 میں شادی کرنے والی کئی غریب خواتین کواب تک کلیان لکشمی کی مالی امداد نہیں مل سکی ہے۔ اپوزیشن نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران حکومت نے تقریباً 1.50 لاکھ کلیان لکشمی درخواستیں زیرالتوارکھی ہیں۔ اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ تمام زیرالتوا درخواستوں کوفوری طورپرمنظورکرتے ہوئے مستحقین کو مالی امداد جاری کی جائے۔ دوسری جانب، معاملے میں حکومت کا تفصیلی موقف اورہائی کورٹ کی آئندہ کارروائی سامنے آنا باقی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق