گری راج سنگھ نے راہل گاندھی پر پارلیمانی وقار کو مجروح کرنے کا الزام لگایا
نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کے بیان اور ان کے انداز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی ایک بدتمیز بچے کی طرح برتاو کر رہے ہیں۔ پارلیمان
مرکزی وزیر گری راج سنگھ


نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کے بیان اور ان کے انداز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی ایک بدتمیز بچے کی طرح برتاو کر رہے ہیں۔ پارلیمانی نظام میں ایک مقررہ وقار ہوتا ہے اور حزب اختلاف کے لیڈر کو اسی کے مطابق اپنی بات رکھنی چاہیے۔

گری راج سنگھ نے راہل گاندھی کے ’’چیلنج کرتا ہوں‘‘ والے انداز پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس طرح کی زبان کے بجائے حقائق اور دلیل کے ساتھ بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا ایک وقار ہوتا ہے، ایک حد ہوتی ہے اور اسی کے مطابق پارلیمنٹ میں برتاو کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ سے موازنہ کرنا غلط ہے۔ امت شاہ نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ہٹانے اور شہریت ترمیمی قانون نافذ کرنے جیسے معاملات پر کام کرکے نتائج دکھائے ہیں۔

مرکزی وزیر نے راہل گاندھی پر دہشت گردی کو لے کر بھی سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے راہل گاندھی کو ’’اربن نکسل‘‘ کا کردار ادا کرنے والا قرار دیا اور کہا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو پارلیمانی طریقے سے معاملات پر بحث کریں اور دوسروں کی بات بھی سنیں۔ گری راج سنگھ نے نیٹ اور پیلٹ گن کے معاملے کو لے کر بھی راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایوان میں پیلٹ گن کا معاملہ اٹھایا جائے گا تو نیٹ پر بھی بحث ہوگی اور اس کے بعد پنجاب، کرناٹک، ہماچل پردیش اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں سے متعلق معاملات بھی بحث کے دائرے میں آئیں گے۔

انہوں نے کانگریس پر بھی حملہ کیا اور پارٹی سے ’’شرم کرنے‘‘ کی بات کہی۔ گری راج سنگھ نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے راہل گاندھی کی حمایت کرنے کو لے کر ’’چمچہ گیری‘‘ جیسے سخت الفاظ کا استعمال کیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande