
پانچ افراد کے خلاف غیر ارادی قتل کا مقدمہ، قبائلی ترقی کے وزیر نے اسکول کا معائنہ کیاممبئی ، 13 اگست (ہ س)۔ مہاراشٹر کے گڑچرولی ضلع کے دھنورا تعلقہ کے جپتلائی میں واقع امدادی آشرم اسکول میں سانپ کے کاٹنے سے تین طالبات کی موت کے معاملے میں پولیس نے جمعرات کو اسکول کے پرنسپل اور سپرنٹنڈنٹ کو گرفتار کرلیا۔ معاملے کی تفتیش دھنورا پولیس اسٹیشن کی ٹیم کررہی ہے۔پولیس کے مطابق 10 اگست کو جپتلائی کے آشرم اسکول میں سانپ کے کاٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں تین طالبات کی موت ہوگئی تھی۔ واقعے کے بعد دھنورا پولیس اسٹیشن میں ادارے کے صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ ماروت راؤ کوواسے، ادارے کے سکریٹری اور ضلع کانگریس کمیٹی کے موجودہ صدر وشواجیت کوواسے، اسکول کے پرنسپل پرشانت ٹاٹ پلّیوار، سپرنٹنڈنٹ بھاسکر بھوئر اور خاتون سپرنٹنڈنٹ بھاگیہ شری چلم وار کے خلاف غیر ارادی قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔پولیس نے جمعرات کو کارروائی کرتے ہوئے اسکول کے پرنسپل پرشانت ٹاٹ پلّیوار اور سپرنٹنڈنٹ بھاسکر بھوئر کو گرفتار کرلیا۔ پولیس واقعے سے وابستہ دیگر افراد کے بیانات بھی درج کررہی ہے اور معاملے کی تفصیلی تفتیش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق سانپ کے کاٹنے سے متاثرہ دیگر تین طالبات کا علاج جاری ہے۔دریں اثنا، ریاست کے قبائلی ترقی کے وزیر ڈاکٹر اشوک اوئیکے نے جپتلائی آشرم اسکول کا دورہ کرکے اسکول کا معائنہ کیا۔ معائنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں پانچ افراد کے خلاف غیر ارادی قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جارہی ہیں اور ذمہ دار افراد اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف معطلی سمیت ضروری کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے