سنسد یوتھ پارلیمنٹ 2026 میں موہن یادو نے کہا- نوجوان، ڈاکٹر و انجینئر بننے کے ساتھ ہی سیاست میں آ کر جمہوریت کو مضبوط بنائیں
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ’سنسد یوتھ پارلیمنٹ: 2026‘ کو کیا خطاب، 12 ریاستوں اور 58 شہروں کے نوجوان شامل ہوئے بھوپال، 13 اگست (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو سیاست میں آ کر اپنی سرگرم شراکت درج کر
سنسد یوتھ پارلیمنٹ 2026 کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو


سنسد یوتھ پارلیمنٹ 2026 کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو


وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے ’سنسد یوتھ پارلیمنٹ: 2026‘ کو کیا خطاب، 12 ریاستوں اور 58 شہروں کے نوجوان شامل ہوئے

بھوپال، 13 اگست (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو سیاست میں آ کر اپنی سرگرم شراکت درج کرانی ہوگی۔ نوجوان، ڈاکٹر و انجینئر بننے کے ساتھ ہی سیاست میں آ کر جمہوریت کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کا نوجوان ہندوستان کے مستقبل کے لیے غور وخوض کرنے بیٹھا ہے۔ یہ ایک خوشگوار احساس ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو جمعرات کو دارالحکومت بھوپال میں واقع اسمبلی بلڈنگ کی قانون ساز کونسل (ودھان پریشد) میں منعقدہ ’سنسد یوتھ پارلیمنٹ 2026‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو، اسمبلی اسپیکر نریندر سنگھ تومر اور دلیپ بلڈکون کے سی ایم ڈی دلیپ سوریہ ونشی نے ”سنسد یوتھ پارلیمنٹ 2026“ کا شمع روشن کر کے افتتاح کیا۔ پروگرام میں ملک بھر سے نوجوان شرکاء پارلیمانی طریقۂ کار، جمہوری اقدار اور قومی اہمیت کے موضوعات پر پارلیمانی انداز میں تبادلۂ خیال کریں گے۔ 13 اور 14 اگست تک جاری رہنے والے اس دو روزہ پروگرام میں 12 ریاستوں اور 58 شہروں کے نوجوانوں نے حصہ لیا ہے۔ یہ پروگرام ساکار درشٹی سوشل فاونڈیشن اور کیلیڈوہوپ ناگپور کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔ پروگرام کے آغاز میں مہمانوں کو انگ وسترم اور تحائف پیش کر کے ان کا استقبال کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ملک کی آزادی کے لیے متعدد مجاہدینِ آزادی نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس نے آئی سی ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد ملازمت کو ٹھکرا کر انگریزوں کو کرارا جواب دیا تھا۔ وہ ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانے کے لیے تحریک آزادی میں کود پڑے۔ ملک کے نوجوانوں کو جمہوریت، پارلیمانی روایت اور پالیسی سازی سے جوڑنے کا یہ اقدام قابلِ تقلید ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان تنوع میں وحدت، ’سب کا ساتھ سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس‘ نیز ’جیو اور جینے دو‘ کے جذبے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ صرف الفاظ سے نہیں ہو سکتا، اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے عزم کی طاقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے رام چندر اور رحیم کے لیے حقوق برابر ہیں۔ مدھیہ پردیش میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے لیے وسیع پیمانے پر تجاویز حاصل کی گئیں۔ تمام اضلاع اور تمام مذاہب کے لوگوں نے اس پر اپنے قیمتی مشورے دیے۔ یو سی سی کے سروے میں 76 فیصد مسلم بہنوں نے یکساں سول کوڈ کی حمایت کی۔ مدھیہ پردیش ملک کی بڑی ریاستوں میں پیش پیش ہے، جس نے یو سی سی نافذ کرنے کے لیے بل منظور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش ملک کا دل ہے اور ہندوستان دنیا کا سب سے نوجوان ملک ہے۔ ایوان فلاحی پالیسیاں بنانے والی مقدس جگہ ہے۔ اس یوتھ پارلیمنٹ میں بیٹیوں کی سرگرم شرکت خواتین کو بااختیار بنانے کی ایک مؤثر مثال ہے۔ سناتن ثقافت میں مادری طاقت کو سب سے اعلیٰ رکھا گیا ہے۔ ہماری ثقافت میں ’وسودھیو کٹمبکم‘ کا جذبہ شامل ہے، یعنی دنیا ہمارے لیے ایک خاندان کی طرح ہے۔ ماں خاندان کی بنیاد ہوتی ہے، ماں کے بغیر بھگوان بھی ادھورے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب عدلیہ کے فیصلوں کا حرف بہ حرف احترام کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایودھیا میں شاندار مندر بن پایا ہے۔

اسپیکر اسمبلی نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ مدھیہ پردیش ہندوستان کا دل ہونے کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں اور صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ مدھیہ پردیش ملک کو قیادت دینے کے لیے سنسکار دھانی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو ریاست کو آگے بڑھانے میں پورے خلوص سے مصروف ہیں۔ آج ودھان پریشد میں یوتھ پارلیمنٹ کا انعقاد ایک چھوٹے ہندوستان کی طرح ہے۔ جوانی کی عمر میں انسان کی اپنی ترقی اور ہندوستان کے مستقبل کا تعین کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ آدی گرو شنکراچاریہ نے جوانی میں ملک کو ایک لڑی میں پرونے کے لیے سفر کیا اور سناتن مٹھوں کا قیام عمل میں لائے۔ آزادی کے لیے پہلی انقلاب 1857 میں ہوئی تھی، جس کی قیادت بھی نوجوانوں نے کی تھی۔ چندر شیکھر آزاد، بھگت سنگھ، راج گرو، سکھ دیو، اشفاق اللہ خان، پنڈت رام پرساد بسمل جیسے متعدد مجاہدین آزادی نے جوانی میں ہی ہندوستان کو آزادی دلانے کے لیے جدوجہد کی۔

انہوں نے کہا کہ پنڈت دین دیال اپادھیائے اور ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی جیسے مفکر بھی یکساں سول کوڈ کے حامی تھے۔ اسی سلسلے میں ڈاکٹر مکھرجی نے جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی مخالفت کی اور ’ایک ملک، ایک پردھان اور ایک ودھان‘ کی وکالت کی۔ آج ہم یکساں سول کوڈ کی طرف بڑھے ہیں، جہاں تمام شہریوں کو یکساں طور پر حقوق ملیں گے۔ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں نئی نسل کو صفائی کی تحریک اور وکست بھارت کے عزم سے جوڑا گیا ہے۔ وکست بھارت میں نوجوانوں کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

دلیپ بلڈکون کے سی ایم ڈی دلیپ سوریا ونشی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو ریاست کی صنعتی ترقی کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں بھاری صنعتوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی صنعتی اکائیوں کو بھی اچھی سرمایہ کاری مل رہی ہے۔ ان کوششوں سے روزگار کے مواقع بھی بڑے پیمانے پر پیدا ہوں گے۔ سوریا ونشی نے سنسد یوتھ پارلیمنٹ 2.0 کے ذریعے نوجوانوں کی جانب سے کی گئی پہل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو خدمت اور سرفروشی کے جذبے سے ملک اور معاشرے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

نوجوان رکنِ پارلیمنٹ کے کردار میں آرو سنگھ شرما نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان نوکری حاصل کرنے والے نہیں، بلکہ روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔ مدھیہ پردیش حکومت کھیل اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے خاص طور پر کوششیں کر رہی ہے۔ ریاست میں 274 ساندیپنی اسکول چلائے جا رہے ہیں، اور ابھی 200 مزید ساندیپنی اسکول بنائے جانے ہیں۔ وکست ہندوستان اور وکست مدھیہ پردیش کے لیے تعلیم یافتہ نوجوانوں کا ہونا ضروری ہے۔

پروگرام میں سابق رکن راجیہ سبھا پدم شری ڈاکٹر وکاس مہاتمے اور اسمبلی کے سکریٹری اروند شرما کو بھی معزز کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں منتظم وسوجیت چوپڑے، دیویانی چوپڑے، ویشالی کھوبڑے سمیت کئی نوجوان اراکین موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande