
نئی دہلی، 13 اگست (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے تکبر اور بے ضابطگی کی وجہ سے متاثر ہوا۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے کہا کہ جمہوریت انفرادی انا، استحقاق یا دباو¿ کے تحت نہیں چلتی اور پارلیمنٹ اسی اصول پر چلتی ہے۔
روی شنکر پرساد نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے نیٹ امتحان میں بدعنوانی کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے، فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کیں اور پیپر لیک سنڈیکیٹس کے خلاف سخت کارروائی کی۔ اس کے علاوہ، امتحانی اصلاحات کے لیے نندن نیلیکنی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیارات والی کمیٹی تشکیل دی گئی۔دوسری جانب، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اپنی بہن کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پربغیر اجازت بیٹھ گئے جبکہ انہیں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے حفاظتی انتظامات کی مکمل معلومات ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہوم سکریٹری اور وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے راہل گاندھی سے بات کرنے اور بات چیت کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن بات چیت کے بجائے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے راہل گاندھی کے اس بیان پر بھی تنقید کی کہ اگر وزیر داخلہ نے گولی چلانے کا حکم دیا تو انہیں استعفیٰ دینا چاہیے اور اگر حکم نہیں دیا تو وہ نااہل وزیر ہیں۔ انہوں نے اسے غیر ذمہ دارانہ اور حقائق سے مبرا قرار دیا۔
روی شنکر پرساد نے کہا کہ حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ کوئی گولی نہیں چلائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو اپنے تمام سوالوں کے جواب مل جاتے اگر وہ پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کو سنتے، لیکن اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی کو نہیں چلنے دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد