اندراما ہاؤسنگ اسکیم کے مستحقین پریشان
حیدرآباد ،13 اگست (ہ س)۔ تلنگانہ حکومت کی اندراما انڈلو ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مکانات تعمیرکرنے والے ہزاروں مستحقین کو بلوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مبینہ طورپرمرکزی حکومت کی جانب سے بعض مستحقین کواس بنیاد پربلوں کی منظوری نہیں دی جارہی
اندراما ہاؤزنگ اسکیم کے مستحقین پریشان،


حیدرآباد ،13 اگست (ہ س)۔

تلنگانہ حکومت کی اندراما انڈلو ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مکانات تعمیرکرنے والے ہزاروں مستحقین کو بلوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مبینہ طورپرمرکزی حکومت کی جانب سے بعض مستحقین کواس بنیاد پربلوں کی منظوری نہیں دی جارہی ہے کہ ان کے نام پرچارپہیہ گاڑیاں موجود ہیں۔ بہت سے کیب ڈرائیورس اورمنی وین چلانے والےافراد، جو اپنی روزی روٹی کے لیے گاڑیاں استعمال کرتے ہیں اوررہنے کے لیے اپنے مکان نہیں رکھتے،نے اندرامامکانات کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ مستحقین کا کہنا ہے کہ درخواست کے وقت انہیں اہل قراردیا گیااوراسی بنیاد پر انہوں نے قرض لے کر مکانات تعمیر کیے۔ تاہم مکانوں کی تعمیرمکمل ہونے کے بعد جب بلوں کی ادائیگی کامرحلہ آیا تو مبینہ طورپرانہیں چارپہیہ گاڑیوں کے مالک ہونے کی وجہ سے غریب طبقے کے لیے مقررہ معیارپرپورا نہ اترنے کا حوالہ دیتے ہوئے بلوں کی ادائیگی روک دی گئی۔ اس صورتحال سے متاثرہ مستحقین شدید الجھن اورمالی پریشانی کاشکارہیں۔ بعض افراد نے مبینہ طورپراپنی گاڑیاں فروخت کردیں، جبکہ کچھ نے گاڑیوں کی ملکیت دوسرے افراد کے نام منتقل کرکے حلف نامے بھی جمع کرائے، لیکن اس کے باوجود بلوں کی ادائیگی کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہجب درخواست کے وقت ہمیں اہل قراردیا گیاتوہم نے قرض لے کرمکانات تعمیرکیے۔ اب نااہل قراردے کر بل روک دیے گئے ہیں، توہماری صورتحال کا کیا ہوگا؟ اطلاعات کے مطابق ریاست بھر میں تقریباً 20 ہزارمستحقین اسی طرح کے مسائل کاسامنا کررہے ہیں اوربلوں کی عدم ادائیگی کے باعث پریشان ہیں۔ دوسری جانب مرکزی حکومت کی جانب سے اسکیم کے تحت ریاست کوملنے والا حصہ جاری نہ ہونے کے باعث تلنگانہ میں تقریباً 1.5 لاکھ اندراما مکانات کے حتمی بل بھی زیرالتوا ہیں۔ ان بلوں کی مجموعی مالیت1,500 کروڑ روپے سے زائد بتائی جارہی ہے۔ ریاستی حکومت کاموقف ہے کہ جب تک مرکزی حکومت اپناحصہ جاری نہیں کرتی،اس وقت تک حتمی بلوں کی مکمل ادائیگی مشکل ہے۔ حکومت کوخدشہ ہے کہ اگرمرکزی حصہ موصول ہونے سے قبل ریاستی حکومت اپنے خزانے سے پوری رقم ادا کردیتی ہے اوربعد میں مرکزبھی رقم جاری کردیتا ہے توایک ہی مستحق کودومرتبہ ادائیگی کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ نتیجتاً ریاست بھرمیں تقریباً ڈیڑھ لاکھ مکانات کے حتمی بلوں کی ادائیگی کامعاملہ التواکا شکارہے،جبکہ ہزاروں مستحقین حکومت سے اپنے مسائل فوری طور پرحل کرنے اورواجب الادا رقم جاری کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande