
گوہاٹی، 13 اگست (ہ س)۔ آسام میں سیلاب سے 433 گاوں کے 86832 افراد ابھی بھی متاثر ہیں۔ اس دوران دو اور لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ریاست میں ندیوں کی سطحِ آب تقریباً معمول کی حالت پر پہنچ گئی ہے۔ تاہم، دھنسری ندی (نملی گڑھ) میں ابھی بھی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ متاثرہ لوگ امدادی کیمپوں سے اپنے گھروں کی طرف لوٹنے لگے ہیں۔ تباہ شدہ مکانات اور بچے ہوئے مکانات میں دو سے تین فٹ مٹی بھری ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متاثرین کی مدد کے لیے مختلف تنظیموں نے ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔ حکومت بھی ضروری انتظامات کر رہی ہے۔ صورتِ حال مکمل طور پر معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔
آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے 12 اگست کے اعداد و شمار کے مطابق دھنسری ندی نملی گڑھ میں خطرے کے نشان سے ابھی بھی اوپر بہہ رہی ہے۔ بدھ کو شیوساگر ضلع میں 1 اور کاربی آنگ لونگ ضلع میں ایک لاش برآمد ہوئی ہے۔ متوفیان کی تعداد 104 ہو گئی ہے۔ سات اضلاع میں سیلاب کی صورتِ حال برقرار ہے۔
متاثرہ سیلاب زدہ اضلاع میں گولا گھاٹ، ہوجائی، شیوساگر، نگاوں، جو رہاٹ، کاربی آنگ لونگ شامل ہیں۔ سیلاب سے ان اضلاع کے 24 ریونیو سرکلوں کے کل 433 گاوں متاثر ہیں۔ اس وقت ریاست کے کل 86832 افراد ابھی بھی متاثر ہیں اور 10884.27 ہیکٹر زرعی زمین پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ریاستی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے ابھی بھی کل 42 امدادی کیمپوں اور 37 امدادی تقسیم مراکز سمیت کل 79 کیمپ فعال رکھے ہیں۔ امدادی کیمپوں میں 7216 افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جبکہ امدادی تقسیم مراکز پر 5795 غیر کیمپ باشندے امداد حاصل کر رہے ہیں۔
سیلاب میں امداد اور بچاو مہم میں ایس ڈی آر ایف، ڈی ڈی آر ایف، پولیس، فائر بریگیڈ اینڈ ایمرجنسی سروسز (ایف اینڈ ای ایس)، سرکل آفس/مقامی انتظامیہ اور سول ڈیفنس/تربیت یافتہ رضاکار مصروف ہیں۔ سیلاب سے بڑے پیمانے پر سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہمنتا بسوا سرما اور ریاستی حکومت کے وزراء مسلسل افسران کے ساتھ میٹنگیں کر کے متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن