
گوہاٹی، 13 اگست (ہ س)۔ آسام اور اروناچل پردیش کی حکومتیں سرحدی کشیدگی کے دو نوں پہلوو¿ں بشمول بین ریاستی سرحدی تنازعہ اور پیر کو فائرنگ کا واقعہپر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ دو ریاستی وزراءاتل بورا اور رانج پیگو نے اس سلسلے میں جمعرات کو تکام مسنگ پورین کیبانگ (ٹی ایم پی کے) کے ساتھ میٹنگ کی۔
دھیماجی کے اوارت بھون میں منعقدہ میٹنگ میں وزراءنے کہا کہ حکومت سرحدی تنازعہ اور پیر کے فائرنگ کے واقعہ کی الگ الگ نگرانی کر رہی ہے۔ حکومت کے مطابق اروناچل پردیش کے چار افراد فائرنگ کے واقعے میں براہ راست ملوث تھے، جس میں 18 آسامی زخمی ہوئے۔
آسام پولیس نے اس واقعہ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا ہے۔ حکومت نے امید ظاہر کی کہ ٹی ایم پی کے جلد ہی اروناچل پردیش کے خلاف جاری اقتصادی ناکہ بندی ختم کردے گی۔
تاہم میٹنگ کے بعد ٹی ایم پی کے نے حکومت کو چاروں ملزمان کی گرفتاری کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی۔ تنظیم نے کہا کہ اروناچل پردیش کے خلاف اس کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ملزمان کی گرفتاری نہیں ہو جاتی۔
ٹی ایم پی کے نے واضح کیا کہ اقتصادی ناکہ بندی بھی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ چار اروناچلی ملزمین کی گرفتاری نہیں ہو جاتی جو پیر کی فائرنگ کے ذمہ دار بتائے جاتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی