اے ایم یو کے غیر تدریسی ملازمین کا مستقل تقرری کے مطالبے کو لے کر احتجاج، وی سی کے نام پراکٹر کو میمورنڈم
علی گڑھ, 13 اگست (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے عارضی اور ایڈہاک غیر تدریسی ملازمین نے مستقل تقرری کے مطالبے کو لے کر بدھ کے روز اپنی آواز بلند کی۔ ٹیکنیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کلب سے مارچ کرتے ہوئے ملازمین بابِ
احتجاج


علی گڑھ, 13 اگست (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے عارضی اور ایڈہاک غیر تدریسی ملازمین نے مستقل تقرری کے مطالبے کو لے کر بدھ کے روز اپنی آواز بلند کی۔ ٹیکنیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کلب سے مارچ کرتے ہوئے ملازمین بابِ سید گیٹ پہنچے، جہاں اے ایم یو کی وائس چانسلر اور ایگزیکٹو کونسل ارکان کے نام پراکٹر کو میمورنڈم پیش کیا گیا۔

بابِ سید گیٹ پر ٹیکنیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری اور فیڈریشن آف سینٹرل یونیورسٹی اسٹاف کے قومی نائب صدر ریحان احمد نے ملازمین کی موجودگی میں میمورنڈم پڑھ کر سنایا۔ بعد ازاں وائس چانسلر کی جانب سے میمورنڈم وصول کرنے پہنچے پراکٹر کو یہ میمورنڈم سونپا گیا،

میمورنڈم میں منظور شدہ عہدوں پر طویل عرصے سے کام کر رہے اہل عارضی اور ایڈہاک ملازمین کی مستقل تقرری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ملازمین نے وائس چانسلر سے اپیل کی کہ اس معاملے کو آئندہ ایگزیکٹو کونسل کی عام میٹنگ میں خصوصی ایجنڈا آئٹم کے طور پر شامل کیا جائے، تاکہ زیرِ التوا معاملے پر جلد غور کرکے مناسب فیصلہ کیا جاسکے۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ مستقل تقرری کے سلسلے میں اس سے قبل بھی نمائندگی پیش کی جاچکی ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے 11 جولائی 2026 کے آفس میمورنڈم سمیت دیگر متعلقہ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

ملازمین نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے منظور شدہ عہدوں کے مقابل مسلسل اور پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایسے میں ان کی مستقل تقرری کے زیرِ التوا معاملے پر ایگزیکٹو کونسل سے انصاف، مساوات اور یونیورسٹی کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے حساس اور منصفانہ فیصلہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا کہ ملازمین انتظامی سطح پر معاملے کا منصفانہ اور جلد حل چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھنے کی اپیل کی گئی ہے کہ مستقل تقرری سے متعلق ملازمین کے حقوق اور دعووں کے سلسلے میں ہائی کورٹ میں زیرِ التوا کارروائی پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

ریحان احمد نے کہا کہ طویل عرصے سے یونیورسٹی کی خدمت انجام دے رہے اہل عارضی اور ایڈہاک ملازمین کے مستقبل کو غیر یقینی میں نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اسے آئندہ ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرے گی۔

ملازمین نے کہا کہ وہ اپنے جائز مطالبات کے لیے جمہوری اور پُرامن طریقے سے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ مثبت پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں آنے والے دنوں میں مہم کو مزید وسیع کرنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں غیر تدریسی ملازمین موجود رہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande