کلکتہ ہائی کورٹ میں مذہبی مقامات سے مائیک ہٹانے کے معاملے پر بحث کے دوران اے جی اور کلیان بنرجی کے درمیان تلخ نوک جھونک
کولکاتا، 13 اگست (ہ س)۔ مذہبی مقامات سے مائیک ہٹانے سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران جمعرات کو کلکتہ ہائی کورٹ میں اس وقت ماحول گرم ہوگیا جب ریاست کے ایڈووکیٹ جنرل (اے جی) سورجیت ناتھ مترا اور سینئر وکیل کلیان بنرجی کے درمیان تلخ بحث شروع ہو
کلکتہ ہائی کورٹ میں مذہبی مقامات سے مائیک ہٹانے کے معاملے پر بحث کے دوران اے جی اور کلیان بنرجی کے درمیان تلخ نوک جھونک


کولکاتا، 13 اگست (ہ س)۔

مذہبی مقامات سے مائیک ہٹانے سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران جمعرات کو کلکتہ ہائی کورٹ میں اس وقت ماحول گرم ہوگیا جب ریاست کے ایڈووکیٹ جنرل (اے جی) سورجیت ناتھ مترا اور سینئر وکیل کلیان بنرجی کے درمیان تلخ بحث شروع ہوگئی۔ بحث بڑھتے بڑھتے ذاتی تبصروں تک پہنچ گئی اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر سخت الفاظ میں جوابی حملے کیے۔

معاملے کی سماعت ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس تپوبرت چکرورتی اور جسٹس اتوروپ بنرجی کی ڈویژن بنچ میں ہو رہی تھی۔ سماعت کے آغاز ہی سے کلیان بنرجی اور ایڈووکیٹ جنرل کے درمیان سوال و جواب اور تلخ نوک جھونک دیکھنے کو ملی۔

بعد میں جب معاملے کی اگلی سماعت کی تاریخ پر گفتگو شروع ہوئی تو تنازع مزید بڑھ گیا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے اگلے پیر کے بجائے کسی اور دن سماعت کرنے کی درخواست کی۔ اس کے بعد عدالت نے اگلے جمعرات کو سماعت کرنے کی بات کہی۔ اس پر کلیان بنرجی نے کہا کہ اس دن انہیں کچھ ذاتی مسئلہ ہے۔

اس کے بعد کلیان بنرجی نے ایڈووکیٹ جنرل پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ بااثر اور طاقتور ہیں، اس لیے عدالت وہی کرے گی جو وہ چاہتے ہیں۔ اس تبصرے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل ناراض ہوگئے اور انہوں نے مبینہ طور پر کلیان بنرجی کو توہین آمیز الفاظ سے مخاطب کیا۔

اس کے جواب میں کلیان بنرجی نے بھی ایڈووکیٹ جنرل پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ”بوٹ چاٹنے والا“ کہہ دیا۔ دونوں کے درمیان بڑھتی بحث کو دیکھتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس نے مداخلت کی اور کلیان بنرجی کو پرسکون کرانے کی کوشش کی۔

اسی دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلبدل بھٹاچاریہ نے بھی کلیان بنرجی کے رکن پارلیمنٹ ہونے پر تبصرہ کیا، جس کے بعد ماحول مزید گرم ہوگیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے عدالت نے دونوں فریقوں کو خبردار کیا اور بالآخر تنازع کو پرسکون کرایا۔

مساجد سے مائیک ہٹانے سے متعلق اس معاملے کی سماعت کے دوران عدالت کے اندر ہونے والی اس تلخ نوک جھونک سے کچھ دیر کے لیے ہائی کورٹ احاطے میں کشیدگی کا ماحول رہا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande