حد بندی کے خلاف تمل ناڈو اسمبلی میں قرارداد منظور، لوک سبھا کی 543 نشستیں مستقل رکھنے کا مطالبہ
چنئی، 12 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں ارکان پارلیمنٹ کی موجودہ تعداد 543 کو مستقل رکھنے اور مجوزہ حد بندی کے باعث جنوبی ریاستوں کی نمائندگی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو روکنے کے مطالبے کو لے کر تمل ناڈو اسمبلی نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی ہے۔ وزیر اعل
حد بندی کے خلاف تمل ناڈو اسمبلی میں قرارداد منظور، لوک سبھا کی 543 نشستیں مستقل رکھنے کا مطالبہ


چنئی، 12 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں ارکان پارلیمنٹ کی موجودہ تعداد 543 کو مستقل رکھنے اور مجوزہ حد بندی کے باعث جنوبی ریاستوں کی نمائندگی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کو روکنے کے مطالبے کو لے کر تمل ناڈو اسمبلی نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی ہے۔ وزیر اعلیٰ جوزف وجے نے اسمبلی میں یہ قرارداد پیش کی۔ بحث کے بعد اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

اسمبلی کی کارروائی شروع ہوتے ہی وزیر اعلیٰ وجے نے حکومت کی جانب سے قرارداد پیش کی اور ایوان سے خطاب کیا۔ قرارداد میں مرکزی حکومت سے لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کی تعداد کو مستقل طور پر برقرار رکھنے اور ریاستوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم میں استحکام یقینی بنانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو بغیر کسی تاخیر کے موجودہ 543 لوک سبھا نشستوں کی بنیاد پر سال 2029 کے عام انتخابات میں نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

قرارداد پر بحث کے بعد وزیر اعلیٰ وجے نے کہا کہ مرکزی حکومت کو خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین کے لیے کوئی رعایت نہیں بلکہ ان کا جمہوری حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک خاتون کے بااختیار ہونے سے ایک خاندان آگے بڑھتا ہے اور ہزاروں خواتین کے بااختیار ہونے سے پورا ملک ترقی کرتا ہے۔ انہوں نے خواتین کو سیاست میں مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سیاسی نظام میں مناسب نمائندگی ملنی چاہیے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی حکومت نے خواتین کے لیے ریزرویشن مردم شماری اور حد بندی کے عمل کی تکمیل کے بعد نافذ کرنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن کا قانون منظور ہونے کے باوجود اس کے نفاذ میں تاخیر ہو رہی ہے۔ مردم شماری اور حد بندی کو بنیاد بنا کر خواتین کے ریزرویشن کو مزید مؤخر نہیں کیا جانا چاہیے۔

وجے نے کہا کہ اگر سال 1971 کے بعد کی کسی مردم شماری کو بنیاد بنا کر حد بندی کی جاتی ہے تو تمل ناڈو سمیت ان جنوبی ریاستوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے، جنہوں نے آبادی پر قابو پانے کے شعبے میں مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن ریاستوں نے آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر پالیسیاں اپنائی ہیں، انہیں حد بندی کے بعد سیاسی نمائندگی میں نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جنوبی ریاستوں کے لیے یہ ایک حقیقی تشویش کا موضوع ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لوک سبھا میں موجودہ 543 نشستوں کی تعداد کو مستقل طور پر برقرار رکھا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ریاستوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم بھی مستقل طور پر یقینی بنائی جانی چاہیے، تاکہ حد بندی کے باعث کسی ریاست کی نمائندگی پر منفی اثر نہ پڑے۔

تمل ناڈو اسمبلی کی قرارداد میں مرکزی حکومت سے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو بغیر کسی تاخیر کے نافذ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سال 2029 کے لوک سبھا انتخابات میں موجودہ 543 نشستوں کی بنیاد پر ہی خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کیا جانا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق، ان مطالبات کو لے کر تمل ناڈو اسمبلی نے قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا۔ قرارداد میں حد بندی کے ممکنہ اثرات سے جنوبی ریاستوں کی نمائندگی کے تحفظ، لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کی تعداد کو مستقل رکھنے اور خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن جلد نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande