ملک بھر میں غیر قانونی تعمیرات کو باقاعدہ بنانے اور بازآبادکاری کی پالیسی کی مانگ پر سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار
نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں غیر قانونی تعمیرات کو باقاعدہ بنانے اور ان کی بازآبادکاری کے لیے پالیسی وضع کرنے کی مانگ پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے حالا
ملک بھر میں غیر قانونی تعمیرات کو باقاعدہ بنانے اور بازآبادکاری کی پالیسی کی مانگ پر سپریم کورٹ کا سماعت سے انکار


نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔

سپریم کورٹ نے ملک بھر میں غیر قانونی تعمیرات کو باقاعدہ بنانے اور ان کی بازآبادکاری کے لیے پالیسی وضع کرنے کی مانگ پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے حالات الگ الگ ہیں، ایسے میں یکساں پالیسی بنانے کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا کہ وہ عرضی میں اٹھائے گئے نکات پر غور کریں، تاکہ انہیں اپنی پالیسی وضع کرنے میں مدد مل سکے۔

یہ عرضی ’سینٹر فار لا اینڈ گڈ گورننس‘ نامی تنظیم نے دائر کی تھی۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ آندھرا پردیش، تلنگانہ اور دہلی میں غیر قانونی تعمیرات کو باقاعدہ بنانے اور بازآبادکاری کے لیے پالیسی بنائی گئی ہے، لیکن یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ انتظامیہ بغیر کسی نوٹس یا بازآبادکاری کے منصوبے کے انہدام کے لیے پہنچ جاتی ہے۔

عرضی میں کہا گیا تھا کہ تعمیرات منہدم کرنے کا فیصلہ بغیر کسی بازآبادکاری کے منصوبے کے نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا آئین کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande