راجیہ سبھا سے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیم) بل 2026 صوتی ووٹ سے منظور
نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ راجیہ سبھا نے بدھ کے روز تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کے بعد نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیم) بل، 2026 کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ اس سے قبل یہ بل منگل کو لوک سبھا سے بھی منظور ہو چکا ہے۔ اس دوران
مرکزی وزیر مملکت برائے تعاون مرلیدھر موہول


نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔

راجیہ سبھا نے بدھ کے روز تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کے بعد نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیم) بل، 2026 کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ اس سے قبل یہ بل منگل کو لوک سبھا سے بھی منظور ہو چکا ہے۔ اس دوران کانگریس نے ایوان میں وزیر داخلہ کے جواب کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کیا۔

وزیر مملکت برائے تعاون مرلیدھر موہول کی جانب سے پیش کیا گیا یہ بل نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) ایکٹ، 1962 میں ترمیم کرتا ہے، جس سے کوآپریٹو سوسائٹیوں کو براہِ راست مالی امداد اور قرض ملنے کی راہ ہموار ہوگی۔

اس ترمیمی بل کا مقصد نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی مالی صلاحیت اور اختیارات کو وسعت دینا ہے تاکہ وہ کوآپریٹو شعبے سے متعلق اداروں اور منصوبوں کو زیادہ موثر انداز میں مالی امداد فراہم کر سکے۔

بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت مرلیدھر موہول نے کہا کہ ملک میں 8 لاکھ سے زائد کوآپریٹو ادارے ہیں، جن سے تقریباً 30 کروڑ افراد وابستہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت تعاون کے قیام کے بعد گزشتہ پانچ سالوں میں کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 3,000 کروڑ روپے کی لاگت سے ملک کی 80,000 پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیوں کے کمپیوٹرائزیشن کا کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے قانون بننے سے اب اہل کوآپریٹو سوسائٹیوں اور کوآپریٹو ترقی سے وابستہ اداروں کو براہِ راست قرض اور مالی امداد فراہم کی جا سکے گی۔

کارپوریشن کی امداد کے دائرۂ کار میں زراعت اور مویشی پروری کے علاوہ پروسیس شدہ غذائی مصنوعات نیز مرکزی حکومت کی جانب سے نوٹیفائیڈ دیگر اشیاء بھی شامل کی گئی ہیں۔ یہ مختلف کوآپریٹو اداروں اور ترقی سے وابستہ یونٹوں کے شیئر کیپیٹل میں بھی سرمایہ کاری کر سکے گا۔ صنعتی اشیاء اور متعلقہ خدمات پر لاگو کچھ پرانی جغرافیائی پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں، جس سے ملک بھر میں کوآپریٹو اداروں تک مالی امداد پہنچانا آسان ہوگا۔

اس سے قبل راجیہ سبھا میں امت شاہ کی غیر موجودگی کو لے کر کھڑگے اور نڈا کے درمیان شدید تکرار دیکھنے کو ملی۔ ایوان میں حزبِ اختلاف کے رہنما ملکارجن کھڑگے نے بل پر بحث کے دوران امت شاہ کی غیر موجودگی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس بل کے آگے وزیرِ داخلہ کا نام درج ہے، انہیں ایوان میں آنا چاہیے۔ اس پر ایوان کے قائد جے پی نڈا نے سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کے رہنما ایوان کو گمراہ کر رہے ہیں اور اپوزیشن بحث سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس کے بعد برسر اقتدار گروپ اور اپوزیشن اراکین کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ ہنگامے کے درمیان کانگریس سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے نعرے بازی کی اور ایوان سے واک آوٹ کر گئے۔ اس کے بعد ایوان میں بل پر بحث جاری رہی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande