وزیر داخلہ کی بحث کی پیشکش پر راہل گاندھی کا پلٹ وار، کہا— تقریر نہیں، طلبہ پر کارروائی کا جواب چاہئے
نئی دہلی، 12 اگست(ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں طلبہ کے احتجاج سے متعلق تمام پہلوؤں پر بحث کے لیے حکومت کے تیار ہونے اور اپوزیشن کو 24 گھنٹے کا وقت دینے کے بیان پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پلٹ وار کیا ہے۔
وزیر داخلہ کی بحث کی پیشکش پر راہل گاندھی کا پلٹ وار، کہا— تقریر نہیں، طلبہ پر کارروائی کا جواب چاہئے


نئی دہلی، 12 اگست(ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں طلبہ کے احتجاج سے متعلق تمام پہلوؤں پر بحث کے لیے حکومت کے تیار ہونے اور اپوزیشن کو 24 گھنٹے کا وقت دینے کے بیان پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پلٹ وار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو وزیر داخلہ کی تقریر سننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، بلکہ ان کا مطالبہ صرف یہ جاننا ہے کہ دہلی میں طلبہ پر گولی چلانے اور ان کے خلاف طاقت کے استعمال کا حکم کس نے دیا تھا۔

راہل گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن یہ جاننا چاہتی ہے کہ طلبہ پر گولی کس نے چلائی، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، ایک طالب علم کی آنکھوں کی روشنی کیسے گئی اور ایک طالب علم کے کان میں گولی کس نے ماری۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ پر لاٹھیاں چلانے اور مبینہ طور پر کیلوں والے ڈنڈوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا، اس کا جواب وزیر داخلہ کو دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس اور آر اے سی(ریزروڈ آرمڈ کانسٹیبلری) وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں۔ وزیر داخلہ امت شاہ کو واضح کرنا چاہیے کہ کیا انہوں نے طلبہ کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر امت شاہ نے کارروائی کا حکم دیا تھا تو انہیں استعفیٰ دینا چاہیے اور اگر انہیں اس کی اطلاع نہیں تھی تو بھی انہیں اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ امت شاہ پارلیمنٹ میں آکر کیا تقریر کریں گے۔ اپوزیشن طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائی کے بارے میں واضح جواب چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20 دنوں سے وزیر داخلہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں سامنے نہیں آئے اور اب اجلاس کے آخری مرحلے میں بحث کی پیشکش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وزیر داخلہ تمام سوالات کے جواب دیں گے، لیکن اپوزیشن پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اسے کس سوال کا جواب چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ طلبہ کے خلاف کسی بھی طرح کے تشدد کے حق میں نہیں ہیں اور اس معاملے پر کھل کر اپنی بات رکھ رہے ہیں۔اس سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز اپوزیشن پر پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت طلبہ کے احتجاج سے متعلق ہر پہلو پر بحث کے لیے تیار ہے۔شاہ نے کہا تھا کہ اگر اپوزیشن بدھ کی دوپہر تین بجے تک لوک سبھا اسپیکر کو بحث کے لیے خط دے تو حکومت تین بجے سے اگلے دن تین بجے تک بحث کرانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ خود پوری بحث کے دوران ایوان میں موجود رہیں گے اور تمام سوالات کے جواب دیں گے۔ امت شاہ کے مطابق، مانسون اجلاس شروع ہونے کے بعد سے وہ باقاعدگی سے پارلیمنٹ آ رہے ہیں اور اپنے دفتر میں موجود رہتے ہیں، لیکن اپوزیشن دونوں ایوانوں کی کارروائی نہیں چلنے دے رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande