مقبوضہ کشمیر کے بے گھر افراد نے باز آبادکاری کا مطالبہ کیا
مقبوضہ کشمیر کے بے گھر افراد نے باز آبادکاری کا مطالبہ کیا جموں، 12 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے جموں پہنچنے والی مرکزی حکومت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سامنے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بے گھر افراد نے اپنے دیرینہ مس
Delegation


مقبوضہ کشمیر کے بے گھر افراد نے باز آبادکاری کا مطالبہ کیا

جموں، 12 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے جموں پہنچنے والی مرکزی حکومت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سامنے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بے گھر افراد نے اپنے دیرینہ مسائل پیش کرتے ہوئے انہیں دوبارہ جموں و کشمیر میں بسانے اور بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔

ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی نے کمیٹی کو بتایا کہ 1947 میں پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر کے کچھ علاقوں پر قبضے کے بعد وہاں کے ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہونے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے 26,300 خاندان جموں و کشمیر آکر آباد ہوئے، جبکہ 5,300 رجسٹرڈ اور 9,500 غیر رجسٹرڈ بے گھر افراد کو ملک کی دیگر ریاستوں میں رہائش اختیار کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ 79 برس گزرنے کے باوجود دیگر ریاستوں میں مقیم بے گھر افراد اپنی آبائی سرزمین واپس آنے کے منتظر ہیں، تاہم ان کے لیے نہ زمین مختص کی گئی اور نہ ہی مناسب بازآبادکاری کا انتظام کیا گیا۔راجیو چونی نے کہا کہ 2014 میں مرکزی حکومت کی کابینہ کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بے گھر افراد کے لیے 25 لاکھ روپے معاوضے اور 8,500 سرکاری ملازمتوں کی بات کی گئی تھی، لیکن یہ وعدے تاحال پورے نہیں ہوسکے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دیگر ریاستوں میں مقیم بے گھر افراد کو جموں و کشمیر میں واپس لاکر آباد کیا جائے اور انہیں واجب الادا معاوضہ اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس موقع پر ایس او ایس انٹرنیشنل کے ارکان نے مرکزی کمیٹی کو اپنے مطالبات پر مشتمل ایک یادداشت بھی پیش کی۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande