
نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے سال 2021-22 سے 2025-26 کے دوران یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کو 90,051.94 کروڑ روپے کی رقم جاری کی۔ اس میں سے مرکزی یونیورسٹیوں کو 73,148.65 کروڑ روپے اور یونیورسٹی کے مساوی اداروں کو 2,743.04 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سوکانت مجومدار نے بدھ کو راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ 2021-22 میں یو جی سی کو 13,839.43 کروڑ روپے جاری کیے گئے اور 13,606.52 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ 2022-23 میں 16,859.87 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جبکہ 16,080.55 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ سال 2023-24 میں 19,054.74 کروڑ روپے جاری کیے گئے اور 18,676.31 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ 2024-25 میں 19,770.47 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جبکہ 19,742.07 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ 2025-26 میں 20,527.43 کروڑ روپے جاری کیے گئے اور 20,507.48 کروڑ روپے کا خرچ ہوا۔
وزیر نے بتایا کہ راشٹریہ اعلیٰ تر شکشا ابھیان کا تیسرا مرحلہ جون 2023 میں پردھان منتری اعلیٰ تر شکشا ابھیان (پی ایم اُوشا) کے طور پر شروع کیا گیا۔ اس کا مقصد ریاستی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور معیار کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت طلبہ کے ہاسٹل، تعلیمی و انتظامی عمارتوں، لیبارٹریوں سمیت دیگر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو امداد دی جاتی ہے۔
سال 22-2021 سے 27-2026 میں 6 اگست 2026 تک پی ایم اُوشا/روسا کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 2,511.77 کروڑ روپے کا مرکزی حصہ جاری کیا گیا۔ اس میں 26-2025 میں سب سے زیادہ 864.25 کروڑ روپے اور موجودہ مالی سال میں اب تک 507 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
مجومدار نے بتایا کہ روسا کے نفاذ کے بعد یو جی سی ریاستی یونیورسٹیوں کو باقاعدگی سے ترقیاتی گرانٹ فراہم نہیں کرتا۔ 12ویں منصوبہ بندی کی مدت کے بعد پہلے سے منظور شدہ یو جی سی اسکیموں کے تحت معاوضے کی بنیاد پر 22-2021 سے 26-2025 کے درمیان ریاستی یونیورسٹیوں، جن میں نجی یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں، کو 931.44 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
اسی مدت کے دوران بین ریاستی ادارے کے طور پر کام کرنے والی پنجاب یونیورسٹی کو مقررہ تنخواہ گرانٹ کے طور پر 1,818.46 کروڑ روپے دیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی تعلیمی پالیسی میں تعلیمی نظام کے لیے ’ہلکا لیکن سخت‘ ضابطہ جاتی ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد شفافیت، وسائل کے مؤثر استعمال اور تعلیمی نظام کی ساکھ کو یقینی بنانے کے ساتھ اداروں کو خود مختاری، بہتر نظم و نسق اور اختراع کے لیے حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
اسی سلسلے میں وزارتِ تعلیم نے وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل، 2025 کو 15 دسمبر 2025 کو لوک سبھا میں پیش کیا۔ یہ بل غور و خوض کے لیے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد