امت شاہ نے اپوزیشن کو بحث کا دیاچیلنج ، کہا— دوپہر تین بجے سے بحث کے لیے تیار
نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز اپوزیشن پر پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آج دوپہر تین بجے تک لوک سبھا اسپیکر کو بحث
امت شاہ نے اپوزیشن کو بحث کا دیاچیلنج ، کہا— دوپہر تین بجے سے بحث کے لیے تیار


نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز اپوزیشن پر پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آج دوپہر تین بجے تک لوک سبھا اسپیکر کو بحث کے لیے خط دے، حکومت تین بجے سے اگلے دن تین بجے تک بحث کرانے کے لیے تیار ہے اور وہ خود ایوان میں موجود رہ کر تمام سوالات کے جواب دیں گے۔

شاہ نے پارلیمنٹ احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہونے کے بعد سے وہ باقاعدگی سے پارلیمنٹ آ رہے ہیں اور اپنے کمرے میں موجود رہتے ہیں، لیکن اپوزیشن دونوں ایوانوں کی کارروائی نہیں چلنے دے رہی ہے۔ ایسے میں ایوان کے اندر جا کر بھی کیا کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اب عوام کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ حقیقت میں کون بھاگ رہا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رججو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ حکومت نیٹ سے متعلق طلبہ کے احتجاج کے تمام پہلوؤں پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا ابتدائی مطالبہ تھا کہ بحث کے لیے وقت مقرر کیا جائے اور حکومت اس پر رضامند ہو گئی تھی۔ وہ خود بھی پارلیمنٹ میں اٹھائے جانے والے ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن اپوزیشن بحث ہونے ہی نہیں دینا چاہتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ شاہ نے کہا کہ حکومت محض بیان دینے کے بجائے پارلیمانی قواعد اور قائم شدہ طریقہ کار کے تحت تفصیلی بحث کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگین موضوعات پر پارلیمنٹ میں تفصیل سے بحث ہوتی ہے اور یہی پارلیمانی طریقہ ہے۔

شاہ نے کہا کہ وہ آج دوپہر تین بجے سے بحث شروع کرکے اسے اگلے دن تین بجے تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ ضرورت پڑنے پر دیر رات تک ایوان میں بیٹھنے اور بحث جاری رکھنے کے لیے بھی وہ تیار ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر لوک سبھا اسپیکر اجازت دیں تو وقفہ سوال کو ملتوی کرکے بحث کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پوری بحث کے دوران ایوان میں بیٹھیں گے، تمام ارکان کی باتیں سنیں گے، اہم نکات کے نوٹس لیں گے اور ہر سوال کا جواب دیں گے، تاکہ ملک کے عوام کے سامنے پورے معاملے کی حقیقت واضح ہو سکے۔

وزیر داخلہ نے اپوزیشن سے کہا کہ اب اسے طے کرنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں بحث کرنا چاہتی ہے یا ہنگامہ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت اور قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حکومت ہر معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ اپوزیشن کو پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے دینی چاہیے۔

شاہ نے یہ بھی کہا کہ ’لاپتہ‘ اور ’بھاگ گئے‘ جیسے الفاظ حالیہ دنوں میں ملک کی عوامی اور پارلیمانی بحث میں زیادہ سننے کو مل رہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی کو لے کر اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اجلاس شروع ہونے کے بعد سے وہ مسلسل پارلیمنٹ آ رہے ہیں اور ایوان کی کارروائی چلنے کی صورت میں تمام سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande