
نوح، 12 اگست (ہ س)۔ ریاست ہریانہ کے نوح ضلع میں، پسماندا ڈیولپمنٹ فاونڈیشن نے بدھ کے روز حب الوطنی اور سماجی بیداری کے پیغام کو پھیلانے کے مقصد سے ترنگا یاترا نکالی۔ ضلع کے مختلف اسلامی مدرسے میں زیر تعلیم سیکڑوں طالبات نے اس مارچ میں حصہ لیا جو یسین میو ڈگری کالج سے شروع ہوا۔ طلباءنے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں ترنگا لے کر مارچ میں شرکت کی۔پسماندا ڈیولپمنٹ فاونڈیشن کے صدر محمد معراج راعین نے کہا کہ فاونڈیشن معاشرے کی ترقی اور بچوں کو مرکزی دھارے سے جوڑنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کے بارے میں معاشرے میں بہت سے تصورات ہیں۔ اس پر قابو پانے اور یہ پیغام پہنچانے کے لیے کہ مدرسوں میں پڑھنے والے بچے بھی ملک اور معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں، یاترا نکالی گئی۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کے لوگوں کو اس بات سے دکھ ہوتا ہے کہ مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو جہادی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرے کے لوگوں کو ملک کے ترنگا اور ہندوستان سے اتنی ہی محبت ہے جتنی قرآن سے ہے۔ یاترا کے ذریعے بھائی چارے، حب الوطنی اور تعلیم کا پیغام دیا گیا۔فاو¿نڈیشن کے چیئرمین نے کہا کہ مسلم معاشرے کے بچے بھی آئی اے ایس، آئی پی ایس، ڈاکٹر اور انجینئر بننا چاہتے ہیں لیکن کئی جگہوں پر وسائل کی کمی ان کے سامنے ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کو کمپیوٹر فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید اور تکنیکی تعلیم حاصل کر سکیں اور ملک کی ترقی میں تعاون کر سکیں۔ساتھ ہی پسماندا ڈیولپمنٹ فاو¿نڈیشن کی خاتون صدر نکھت پروین نے کہا کہ پسماندا سوسائٹی کی بیٹیاں اب پیچھے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترنگا یاترا میں شامل لڑکیاں مدرسوں میں پڑھتی ہیں اور روزانہ کی تربیت کے ساتھ ساتھ بنیادی تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے یاترا میں بچیوں کی شرکت کو تعلیم، بیداری اور ترقی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کنور آدتیہ وکرم ایس ڈی ایم نوح نے پسماندا ڈیولپمنٹ فاو¿نڈیشن کے زیر اہتمام ترنگا یاترا کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی