


بھوپال، 12 اگست (ہ س)۔
ایم پی کے چٹانی نقوش سے لے کر فن، ادب اور ریاستی علامات تک میں ہاتھیوں کی موجودگی ہزاروں سال سے درج ہے۔ کروڑوں سال قدیم فوسلز، جو یہاں کے عجائب گھروں میں بھی محفوظ ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایم پی دنیا کے قدیم ترین ہاتھیوں کے علاقوں میں سے ایک رہا ہے۔ ہندوستان میں ایشیائی ہاتھیوں کی عالمی تعداد کی 60 فیصد آبادی پائی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے بین الاقوامی تناظر میں ہاتھیوں کے تحفظ میں ایم پی کا انتہائی اہم مقام ہے۔
یہ معلومات بدھ کے روز عالمی یومِ ہاتھی کے موقع پر اسٹیٹ آرکیالوجیکل میوزیم کمپلیکس بھوپال میں انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج (انٹیک) بھوپال چیپٹر کے زیرِ اہتمام منعقدہ پروگرام میں دی گئیں۔ پدم شری ڈاکٹر نارائن ویاس نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مدھیہ پردیش کے تناظر میں قدیم زمانے سے ہاتھیوں کا ایک خاص مقام رہا ہے۔ ہمارے فن، ثقافت اور ادب میں ان کا مسلسل ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کے چٹانی نقوش میں ہزاروں سال سے ہاتھیوں کی عکاسی اس بات کی علامت ہے کہ یہ ہماری سماجی ساخت کے ساتھ بہت گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔
انٹیک بھوپال چیپٹر کے کنوینر مدن موہن اپادھیائے نے بتایا کہ ’پروجیکٹ گج لوک‘ کی مدھیہ پردیش میں خاص اہمیت ہے، اور گزشتہ ایک سال سے انٹیک، ریاست کے تمام علاقوں میں ہاتھی سے جڑی کہانیاں، جنگ میں ان کا کردار، فن و ثقافت اور لوک کہانیوں میں ان کی پیشکش کی دستاویز کاری (ڈاکیومنٹیشن) کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کو وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند کی جانب سے تعاون فراہم کیا جا رہا ہے اور ہم ادارہ جاتی شراکت دار کے طور پر کردار ادا کر رہے ہیں۔
پروگرام میں پدم شری ڈاکٹر ویاس کے ذریعے ”گج لوک - وائلڈ - سیکرڈ - ایٹرنل“ فلم کا اجراء کیا گیا۔ اس دستاویزی فلم کے ذریعے بہتر عوامی بیداری لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلم میں ہندوستانی ہاتھیوں کی عام نقل و حرکت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ کیرالہ اور جنوبی ہندوستان کے مندروں میں ہاتھیوں کا خاص مقام سبھی کو معلوم ہے۔ مدھیہ پردیش کے باندھو گڑھ ٹائیگر ریزرو کے ’گوتم‘ ہاتھی کا خصوصی مقام ہے۔ گڑھ منڈلا اور گنور گڑھ کی گونڈ سلطنت میں بھی ہاتھی ریاستی علامت کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ دھار ریاست کے سکے پر بھی ہاتھی کا نشان موجود تھا۔ اسی طرح سانچی کی عالمی شہرت یافتہ یونیسکو کی عمارت میں ہاتھیوں کی جتنی خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے، اتنی شاید ہی دنیا میں کسی دوسری جگہ دیکھنے کو ملے۔ ’گز لکشمی‘ کے روپ میں بھی ہاتھی کا تصور آتا ہے۔گنیش جی تو ازل سے ہمارے آرادیہ دیو(معبود) رہے ہیں۔
انٹیک بھوپال نے اپیل کی ہے کہ ہاتھیوں سے متعلق جو بھی کہانی، داستان یا معلومات موجود ہوں اسے شیئر کیا جائے، تاکہ اسے قومی ریکارڈ میں شامل کیا جا سکے۔ پروگرام میں جنگلی حیات کے شائقین اور طلباء و طالبات موجود رہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن