
مدھیہ پردیش میں اینالوگ پنیر پر پابندی، وزیر اعلیٰ نے ہدایت جاری کی
بھوپال، 12 اگست (ہ س)۔
مہاراشٹر، گجرات اور چھتیس گڑھ کی طرز پر اب مدھیہ پردیش حکومت نے بھی اینالوگ پنیر کی پیداوار، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے فوڈ اینڈ سیول سپلائی ڈپارٹمنٹ کے افسران کی میٹنگ میں اس کی واضح ہدایات دیں۔ حکومت کا مقصد نقلی اور ملاوٹ شدہ اشیائے خورد و نوش پر لگام کس کر قدرتی دودھ کی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔
دراصل، اینالوگ پنیر کو اصلی دودھ کے متبادل کے طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ اسے بنانے میں اصلی دودھ کے بجائے یا دودھ کے ساتھ نباتاتی چربی (ویجیٹیبل فیٹ)، نشاستہ (اسٹارچ) اور دیگر کیمیائی مادوں/اشیاء کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لاگت کم ہونے کی وجہ سے بازار میں ہوٹلوں، ریستورانوں اور ڈھابوں پر اس کی کھپت کافی بڑھ گئی تھی۔ مدھیہ پردیش میں روزانہ تقریباً 300 سے 400 کوئنٹل یعنی مہینے میں تقریباً 900 سے 1200 ٹن اینالوگ پنیر کی فروخت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو کا کہنا ہے کہ ہم قدرتی طور پر دودھ کی پیداوار کو بڑھائیں گے اور قدرتی طور پر ہی پنیر بنائیں گے۔
بدھ کے روز گجرات روانہ ہونے سے قبل وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ دیگر ریاستوں کی طرح مدھیہ پردیش میں بھی اینالوگ پنیر پر مکمل طور پر روک لگائی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت قدرتی طور پر دودھ کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کرے گی اور اصلی دودھ سے بنے معیاری پنیر کی پیداوار کو ہی فروغ دیا جائے گا، تاکہ عام لوگوں کی صحت سے کھلواڑ نہ ہو۔
قابلِ ذکر ہے کہ اینالوگ پنیر کی فروخت پر قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این ایچ آر سی) نے بھی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کمیشن کے رکن پرینک قانون گو نے اینالوگ پنیر کو صحت کے لیے مہلک قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف قانونی خبردار (جیسے سگریٹ کے پیکٹ پر) لکھ دینے سے خطرہ کم نہیں ہوتا۔ انہوں نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کو نوٹس جاری کرنے کی بات کہی اور واضح کیا کہ عام جانچ سے اسے پکڑنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے ریاستوں کی جانب سے اس پر مکمل پابندی لگانا ہی مناسب قدم ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن