جسٹس یشونت ورما پر عائد الزامات کو تحقیقاتی کمیٹی نے درست قرار دیا، رپورٹ لوک سبھا میں پیش
نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ جسٹس یشونت ورما کی رہائش گاہ سے بے حساب نقد رقم برآمد ہونے کے معاملے میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے ان پر عائد تینوں الزامات کو درست پایا ہے۔ کمیٹی کے مطابق دہلی میں واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بڑی مقدار میں بے حساب نقد
جسٹس یشونت ورما پر عائد الزامات کو تحقیقاتی کمیٹی نے درست قرار دیا، رپورٹ لوک سبھا میں پیش


نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ جسٹس یشونت ورما کی رہائش گاہ سے بے حساب نقد رقم برآمد ہونے کے معاملے میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے ان پر عائد تینوں الزامات کو درست پایا ہے۔ کمیٹی کے مطابق دہلی میں واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بڑی مقدار میں بے حساب نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔آج لوک سبھا میں کمیٹی کی رپورٹ ایوان کے میز پر پیش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جسٹس ورما کے خلاف کسی طرح کی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں نقد رقم کی موجودگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ واقعے سے متعلق اہم شواہد کو مناسب طریقے سے محفوظ نہیں رکھا گیا اور جسٹس ورما کی جانب سے دی گئی وضاحتیں اطمینان بخش نہیں تھیں۔ تاہم کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا کہ اسٹور روم سے ملنے والے نوٹ انہی کے تھے۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے ’اسٹور روم پر میرا کنٹرول نہیں تھا‘ والی دلیل کو بھی وسیع پیمانے پر تسلیم نہیں کیا۔قابل ذکر ہے کہ 14 مارچ 2025 کو 30 تغلق کریسنٹ واقع جسٹس ورما کی رہائش گاہ کے اسٹور روم میں آگ لگنے کے بعد مبینہ طور پر جلی ہوئی نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔تحقیقاتی کمیٹی نے یشونت ورما کے خلاف عائد تینوں الزامات کو درست قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا ہے کہ سرکاری رہائشی احاطے میں 500 روپے کے نوٹوں کی بڑی مقدار پائی گئی، جن کی موجودگی، ذریعہ اور ملکیت کے بارے میں اطمینان بخش وضاحت نہیں دی گئی۔ کمیٹی نے شواہد کے تحفظ میں بھی سنگین کوتاہی پائی اور کہا کہ پورے معاملے میں جج کی جانب سے دی گئی وضاحت مطلوبہ شفافیت اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھی۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande