غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق ایف سی آر اے بل جے پی سی کو بھیجا گیا
نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں بدھ کے روز ’غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ترمیمی بل، 2026‘ کو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کے حوالے کر دیا گیا۔ مشترکہ کمیٹی میں لوک سبھا کے 21 اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان شامل ہوں گے۔ ان ارکان کو لوک سبھا اسپیک
غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق ایف سی آر اے بل جے پی سی کو بھیجا گیا


نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں بدھ کے روز ’غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ترمیمی بل، 2026‘ کو پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کے حوالے کر دیا گیا۔ مشترکہ کمیٹی میں لوک سبھا کے 21 اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان شامل ہوں گے۔ ان ارکان کو لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین نامزد کریں گے۔ کمیٹی کو بل کا جائزہ لے کر 2026 کے سرمائی اجلاس کے پہلے ہفتے کے آخری دن تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے آج بل کو مشترکہ کمیٹی کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی۔ اپوزیشن جماعتوں نے بل واپس لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ حکمراں جماعت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ بل اقلیتوں کے خلاف نہیں ہے۔ اس کے بعد بل کو صوتی ووٹ سے جے پی سی کے حوالے کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی۔

بل کی مخالفت کرتے ہوئے کانگریس کے رہنما کے سی وینوگوپال نے کہا کہ اس سے اقلیتی اداروں کی غیر ملکی فنڈنگ رک جائے گی۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے اسے اقلیتوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری اپوزیشن اس بل کی مخالفت کر رہی ہے۔ ڈی ایم کے رہنما ٹی آر بالو نے بھی بل واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب پارلیمانی امور کے وزیر کرن رججو نے کہا کہ اپوزیشن نے ہی بل کو جے پی سی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی موضوع پر خدشات یا سوالات ہیں تو اسے جے پی سی میں بھیجا جا سکتا ہے، لیکن اپوزیشن اس کا خیرمقدم کرنے کے بجائے مخالفت کر رہی ہے۔رججو نے کہا کہ یہ ملک کو محفوظ رکھنے کا معاملہ ہے اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ قوانین اور آئینی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔

حکومت کے پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کے مطابق غیر ملکی عطیات (ضابطہ) قانون (ایف سی آر اے) کے حوالے سے کئی تصورات نامکمل معلومات پر مبنی ہیں۔ ایف سی آر اے غیر ملکی عطیات پر مکمل پابندی عائد نہیں کرتا بلکہ رجسٹریشن اور شفافیت کی شرائط کے ساتھ غیر ملکی عطیات کی اجازت دیتا ہے۔حکومت کے مطابق مالی سال 2024-25 میں تقریباً 16,200 رجسٹرڈ اداروں کو تقریباً 22,963 کروڑ روپے کا غیر ملکی عطیہ حاصل ہوا۔

حکومت نے کہا کہ یہ قانون صرف غیر سرکاری یا مذہبی تنظیموں تک محدود نہیں ہے اور مذہب، برادری یا نظریے کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتا۔ رجسٹریشن کی سرگرمیوں کے لیے پیشگی اجازت کا کوئی نیا نظام قائم نہیں کیا گیا ہے۔حکومت کے مطابق جائیداد سے متعلق دفعات صرف ان جائیدادوں پر لاگو ہوتی ہیں جو غیر ملکی عطیات سے بنائی گئی ہوں۔ اسی طرح کسی ادارے کی رجسٹریشن منسوخ ہونا ہمیشہ کسی غلطی کا ثبوت نہیں ہوتا، کیونکہ انتظامی وجوہات بھی اس کے پیچھے ہو سکتی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande