
نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں جاری تعطل کے درمیان پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو کہا کہ وہ موجودہ صورتحال سے مایوس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں پہلی بار وہ ایسی صورتحال دیکھ رہے ہیں، جب حکومت خود پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے لیکن اپوزیشن بحث سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔
کرن رجیجو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’میں پوری طرح مایوس ہوں۔ اپنی زندگی میں پہلی بار ایسی صورتحال دیکھ رہا ہوں، جہاں حکومت پارلیمنٹ میں بحث چاہتی ہے لیکن اپوزیشن بحث سے بھاگ رہا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں عام طور پر اپوزیشن بحث کا مطالبہ کرتا ہے اور حکومت اس پر جواب دیتی ہے، لیکن موجودہ صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت واضح طور پر کہہ رہی ہے کہ وہ بحث کرانے اور تمام سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہے، لیکن اپوزیشن حکومت کا جواب سننا نہیں چاہتا۔ رجیجو نے کہا کہ جمہوریت کے لیے یہ اچھی صورتحال نہیں ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے سامنے بار بار بحث کے لیے اپنی رضامندی اور آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن اپوزیشن اس کے لیے تیار نہیں ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے مرکزی وزیر داخلہ کو ایک بار پھر لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھنا پڑا۔ رجیجو کے مطابق، وزیر داخلہ نے لوک سبھا اسپیکر کو لکھے خط میں دہرایا ہے کہ حکومت ایوان میں کھلے، جامع اور تفصیلی طریقے سے بحث کے لیے تیار ہے۔ ساتھ ہی وزیر داخلہ نے لوک سبھا اسپیکر سے اپوزیشن رہنماؤں کو بحث کے لیے راضی کرانے کی اپیل کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد