
رانچی، 12 اگست (ہ س)۔
جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں طلبہ کا غیر معینہ مدت کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری ہے۔ اسی دوران منگل کی دیر رات تقریباً ساڑھے 12 بجے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی)، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی)، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) اور سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) سمیت کئی انتظامی افسران احتجاجی مقام پر پہنچے۔ دیر رات بڑی تعداد میں افسران اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی سے احتجاج کر رہے طلبہ میں غم و غصے کی کیفیت پیدا ہوگئی۔
انتظامی ٹیم کے اچانک احتجاجی مقام پر پہنچنے کے بعد طلبہ کو خدشہ ہوا کہ انہیں دھرنے کے مقام سے ہٹانے یا حراست میں لینے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ اسٹیڈیم میں جمع ہوگئے اور انتظامیہ کے سامنے ڈٹے رہے۔ طلبہ نے کہا کہ جب تک ان کے مطالبات پر ٹھوس اقدام نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔
تاہم، ضلعی انتظامیہ نے طلبہ کو زبردستی ہٹانے یا حراست میں لینے کی کسی بھی کارروائی سے انکار کیا۔ ڈی سی منجوناتھ بھجنتری نے کہا کہ افسران بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کی خیریت معلوم کرنے اور انہیں کچھ کھانے کے لیے سمجھانے کے مقصد سے وہاں پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے تک بھوک ہڑتال کرنے سے طلبہ کی صحت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ انتظامیہ طلبہ کی صحت کی صورتحال کو لے کر مسلسل کوششیں کرتی رہے گی۔
سٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ (سٹی ایس پی) پارس رانا نے بھی طلبہ کو زبردستی ہٹانے یا حراست میں لینے کی بات کو مسترد کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل احتجاجی مقام پر پتھراؤ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کے بعد احتجاج کی کور کمیٹی نے کچھ بیرونی اور سماج دشمن عناصر کے احتجاج میں شامل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
سٹی ایس پی کے مطابق پولیس ٹیم ایسے مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے موقع پر پہنچی تھی، تاکہ کوئی سماج دشمن عناصر بھیڑ کا فائدہ اٹھا کر ماحول خراب نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا مقصد پرامن طریقے سے احتجاج کر رہے طلبہ کو حراست میں لینا نہیں تھا۔
پارس رانا نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کی ٹیم کے موقع پر پہنچنے کے دوران کچھ انسٹاگرام انفلوئنسرز بھی وہاں موجود تھے۔ ان کے مطابق، سوشل میڈیا کے ذریعے یہ افواہ پھیل گئی کہ پولیس طلبہ کو حراست میں لینے پہنچی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
دیر رات احتجاجی مقام پر انتظامی ٹیم کے پہنچنے کی اطلاع کے بعد بی جے پی کے رہنما بھی موقع پر پہنچے اور طلبہ کی حمایت میں کھڑے نظر آئے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی راج سنہا نے انتظامیہ کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ کو کوئی کارروائی کرنی ہے تو وہ دن کی روشنی میں کھلے طور پر کرے۔انہوں نے رات کے وقت اسٹیڈیم کے آس پاس پولیس فورس کی تعیناتی اور مبینہ طور پر اسٹریٹ لائٹس بند کیے جانے پر بھی سوال اٹھائے۔ راج سنہا نے کہا کہ رات کے وقت بڑی تعداد میں پولیس فورس کی موجودگی سے طلبہ کے درمیان خوف کا ماحول پیدا ہوا۔
بی جے پی کے ریاستی چیف ترجمان پرتل شاہ دیو نے بھی دیر رات بھاری پولیس فورس کی تعیناتی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طلبہ کو احتجاجی مقام سے ہٹانے کے لیے پولیس کارروائی کی تیاری کی جا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اتنی رات میں ڈی سی اور ایس ایس پی کا بڑی تعداد میں پولیس فورس کے ساتھ احتجاجی مقام پر پہنچنا معمول کی بات نہیں ہے۔
تاہم، دیر رات تک طلبہ کو ہٹانے یا حراست میں لینے جیسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انتظامیہ نے اپنی موجودگی کو طلبہ کی صحت اور سلامتی سے متعلق قرار دیا، جبکہ بی جے پی رہنماؤں اور احتجاج کرنے والے طلبہ نے رات دیر گئے ہونے والی انتظامی سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے۔فی الحال جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات سمیت مختلف مطالبات کو لے کر طلبہ دھرنے پر بیٹھے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan