جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات کی سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر طلباءکی تحریک 19ویں دن بھی جاری
رانچی، 12 اگست (ہ س)۔ جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی کے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی جانچ سمیت دیگر مطالبات کو لے کر طلباءکی تحریک بدھ کو مسلسل 19ویں دن بھی جاری رہی۔ وہیں، آمرن انشن کا نواں دن رہا۔ احتجاجی طلبہ امتحانات میں شفاف
جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات کی سی بی آئی جانچ کے مطالبے پر طلباءکی تحریک 19ویں دن بھی جاری


رانچی، 12 اگست (ہ س)۔

جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی کے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی جانچ سمیت دیگر مطالبات کو لے کر طلباءکی تحریک بدھ کو مسلسل 19ویں دن بھی جاری رہی۔ وہیں، آمرن انشن کا نواں دن رہا۔ احتجاجی طلبہ امتحانات میں شفافیت، مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ اور قصورواروں کے خلاف ٹھوس کارروائی کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

تحریک میں شامل طالب علم ونے مہتا نے کہا کہ طلبہ جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں پرامن طریقے سے انشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت طلباءکے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے دیر رات دھرنا مقام پر پولیس انتظامیہ کی سرگرمی کو لے کر خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں تحریک کو دبانے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی اپیل کی۔

اسی دوران، احتجاجی طالب علم ا±مّہ حبیب کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں دیر رات اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس سے قبل طالب علم امیدوار راہل کمار اور دیویندر ناتھ مہتو کو بھی صدر اسپتال لے جاکر علاج کرایا گیا تھا۔ مظاہرین نے کہا کہ انشن کرنے والوں کا علاج جاری رہنے کے باوجود دیر رات دھرنا مقام پر انتظامیہ کی موجودگی کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔

طالب علم رہنما کنال پرتاپ سنگھ سمیت دیگر نے کہا کہ بھرتی امتحانات سے متعلق اٹھنے والے سوالات کا واضح اور اطمینان بخش حل ضروری ہے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت معاملے کی سنگینی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر امیدواروں میں ناراضی بڑھ رہی ہے۔ پورے معاملے کی کسی آزاد ایجنسی سے جانچ کراکر حقائق عوام کے سامنے لائے جانے چاہئیں، تاکہ امیدواروں کا امتحانی نظام پر اعتماد برقرار رہ سکے۔

طالب علم روہت کجور نے کہا کہ تحریک کا مقصد بھرتی امتحانات میں شفافیت اور غیر جانب داری یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسابقتی امتحانات کی تیاری میں امیدوار برسوں محنت کرتے ہیں۔ ایسے میں امتحان میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت سی جی ایل امتحان منسوخ کرکے سی بی آئی جانچ کرانے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande