
رانچی، 12 اگست (ہ س)۔
جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی، جے ایس ایس سی سمیت دیگر بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری طلبہ تحریک کی گونج اب دہلی تک پہنچ گئی ہے۔ بدھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاو¿س احاطے کے مکر دوار پر احتجاج کرتے ہوئے جھارکھنڈ میں طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج کی مخالفت کی اور ان کی حمایت میں آواز بلند کی۔
بی جے پی کے جھارکھنڈ پردیش صدر آدتیہ ساہو کی قیادت میں جھارکھنڈ اور اوڈیشہ کے ارکان پارلیمنٹ نے احتجاج کیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ طلبہ کے حقوق اور انصاف کی لڑائی اب صرف جھارکھنڈ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کی آواز پارلیمنٹ تک پہنچ چکی ہے۔
احتجاج کے دوران بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے طلبہ تحریک پر مبینہ پولیس کارروائی کی مخالفت کی اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس کی خاموشی پر سوال اٹھائے۔ بی جے پی لیڈروں نے الزام لگایا کہ جھارکھنڈ میں کانگریس کی جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے ساتھ اقتدار میں شراکت داری ہے، اسی لیے پارٹی پورے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے ریاستی حکومت سے طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے اور مبینہ لاٹھی چارج کے واقعے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
آدتیہ ساہو نے الزام لگایا کہ منگل کی نصف شب جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں واقع احتجاجی مقام پر ڈپٹی کمشنر اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت بھاری پولیس فورس کے ساتھ پہنچنا اور پرامن احتجاج کر رہے طلبہ کی بجلی کاٹ کر انہیں زبردستی ہٹانے کی کوشش کرنا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کے رات میں احتجاجی مقام پر پہنچتے ہی انتظامیہ کا پیچھے ہٹ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت طاقت کے زور پر تحریک کو کچلنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیمنت سورین حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ طلبہ کی آواز کو نصف شب کے اندھیرے میں دبانے کی کوشش کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔
آدتیہ ساہو نے حکومت اور انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے ساتھ کسی بھی طرح کی زیادتی ہوئی تو بی جے پی سڑک سے ایوان تک بھرپور لڑائی لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے حقوق اور انصاف کی اس لڑائی میں بی جے پی پوری مضبوطی کے ساتھ طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے۔
احتجاج کے دوران بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے راہل گاندھی سے جواب طلب کرتے ہوئے نعروں والی تختیاں ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں۔ ان پر ”جھارکھنڈ میں طلبہ پر ہوئے لاٹھی چارج پر راہل گاندھی جواب دو“، ”طلبہ کے ساتھ ہوئی غیر انسانی کارروائی پر راہل گاندھی جواب دو“، ”طلبہ پر ہوئی تشدد کی کارروائی پر راہل گاندھی جواب دو“ اور ”طلبہ کے ساتھ ہوئی ناانصافی پر راہل گاندھی جواب دو“ جیسے نعرے درج تھے۔
احتجاج میں ارکان پارلیمنٹ نشی کانت دوبے، ودیوت ورن مہتو، بی ڈی رام، ڈاکٹر پردیپ ورما، چندر پرکاش چودھری، منیش جیسوال اور کالی چرن سنگھ سمیت جھارکھنڈ کے کئی ارکان پارلیمنٹ شامل ہوئے۔ اوڈیشہ کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی احتجاج میں شرکت کرکے جھارکھنڈ کے طلبہ کی حمایت میں اپنی آواز بلند کی۔
بی جے پی ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے طلبہ کے مطالبات کا حکومت کو بات چیت کے ذریعے حل نکالنا چاہیے اور کسی بھی طرح کی جابرانہ کارروائی سے گریز کرنا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ