
اسکول میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات پر کمیشن سخت، سماعت 7 اکتوبر کو ہوگی
چنڈی گڑھ، 12 اگست(ہ س)۔ ہریانہ ہیومن رائٹس کمیشن نے سرکاری سینئر سیکنڈری اسکول، سناولی خرد، باپولی بلاک، پانی پت میں بارہویں جماعت کے طلباءکے ذیعہ لگائے گئے مبینہ بد سلوکی کے الزامات اور بنیادی سہولیات کی کمی کا از خود نوٹس لیا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین جسٹس للت بترا نے انتظامیہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔ مقدمے کی اگلی سماعت 7 اکتوبر کو ہوگی۔کمیشن کو بھیجی گئی شکایت اسکول کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ طلباءکے مطابق کلاس روم میں کافی بجلی نہیں ہے اور بجلی کے ڈھیلے تار چھت سے لٹک رہے ہیں، جس سے طلبا کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ مناسب میز، بنچ اورپنکھوں کی کمی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ طلباءنے شدید گرمی میں پنکھوں کو آن کرنے کی اجازت نہ دیے جانے کی بھی شکایت کی ہے۔طالب علموں کی طرف سے جمع کرائی گئی شکایت پر ان کے دستخط اور انگوٹھے کا نشان ہے۔ شکایت کے ساتھ اسکول کے احاطے کی حالت دکھانے والی تصاویر بھی منسلک کی گئی ہیں۔ طلباءنے پرنسپل پر مبینہ طور پر غیر مہذب اور توہین آمیز انداز میں برتاو¿ کرنے، قابل اعتراض زبان استعمال کرنے اور اسکول کی فہرستوں سے ان کے نام حذف کرنے کی دھمکی دینے کا الزام لگایا ہے۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بارہویں جماعت-بی کے طلبا کو گزشتہ دو سے تین ماہ سے اپنی مقررہ کلاس میں بیٹھنے کی سہولت نہیں مل رہی ہے اور وہ کلاس سے باہر بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔کمیشن نے بیت الخلا کی سہولیات کے بارے میں الزامات کو خاص طور پر سنجیدگی سے لیا ہے۔ شکایت کنندگان کے مطابق اسکول میں مناسب اور فعال بیت الخلا دستیاب نہیں ہیں اور اس کی وجہ سے خاص طور پر طالبات کو کھلے میںرفع حاجت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ اگر یہ الزامات سچ پائے جاتے ہیں تو طلباء کے وقار، رازداری، صحت اور حفاظت متاثر ہوسکتی ہے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔ جسٹس للت بترا نے حکم نامے میں کہا کہ شکایت کے ساتھ جمع کرائی گئی تصاویر پہلی نظر میں اسکول کے بنیادی ڈھانچے اور غیر محفوظ برقی انتظامات میں خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ لہذا، الزامات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تصدیق ضروری ہے۔ اسسٹنٹ رجسٹرار ڈاکٹر پونیت اروڑا نے بتایا کہ تمام متعلقہ افسران کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی