حکومت نے مختلف محکموں کے افسران کے مالی اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا
حکومت نے مختلف محکموں کے افسران کے مالی اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا جموں، 12 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے کے لیے مختلف محکموں اور انجینئرنگ افسران کے مالی اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ نئی ہدایات
Lg greet


حکومت نے مختلف محکموں کے افسران کے مالی اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا

جموں، 12 اگست (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں میں تیزی لانے کے لیے مختلف محکموں اور انجینئرنگ افسران کے مالی اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ نئی ہدایات کے تحت انتظامی محکمے مالی مشیر یا ڈائریکٹر مالیات و چیف اکاؤنٹس افسر کی منظوری سے 30 کروڑ روپے تک کے اخراجات کی انتظامی منظوری دے سکیں گے۔

لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کی دفعہ 67 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے مالی اختیارات میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔ محکمہ مالیات کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق مختلف سطح کے افسران کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مالی اختیارات دیے گئے ہیں، تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور ان پر عمل درآمد کا عمل تیز ہو سکے۔

ترمیم شدہ ضوابط کے مطابق چیف انجینئر کو 15 کروڑ روپے، محکمہ کے سربراہان بشمول ضلع ترقیاتی کمشنر کو 7.50 کروڑ روپے اور سپرنٹنڈنگ انجینئر کو 4.50 کروڑ روپے تک کے منصوبوں کی انتظامی منظوری دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اسی طرح بنیادی تعمیراتی کاموں کے لیے سپرنٹنڈنگ انجینئر 2 کروڑ روپے، ایگزیکٹو انجینئر 75 لاکھ روپے اور اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر 10 لاکھ روپے تک کی فنی منظوری دے سکیں گے۔

مرمت اور دیکھ بھال کے کاموں کے لیے سپرنٹنڈنگ انجینئر کو 7.50 لاکھ روپے، ایگزیکٹو انجینئر کو 3.75 لاکھ روپے اور اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر کو 1 لاکھ روپے تک کی فنی منظوری کا اختیار دیا گیا ہے۔ حکومت نے ٹھیکے منظور کرنے کے مالی اختیارات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ نئی انتظام کے تحت محکمانہ معاہدہ کمیٹیاں 60 کروڑ روپے تک، چیف انجینئر 30 کروڑ روپے تک، سپرنٹنڈنگ انجینئر 10.50 کروڑ روپے تک اور ایگزیکٹو انجینئر 2.25 کروڑ روپے تک کے ٹھیکے منظور کر سکیں گے۔

حکومت کے مطابق مالی اختیارات میں اس اضافے سے فیصلہ سازی کا عمل تیز ہوگا، فائلوں میں غیر ضروری تاخیر کم ہوگی اور جموں و کشمیر میں ترقیاتی و بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی تکمیل میں تیزی آئے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande