
نئی دہلی، 12 اگست (ہ س)۔ ملک میں ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے 14 ریاستوں میں 33 ہاتھی پناہ گاہیں اور سائنسی طور پر نشان زدہ 150 ہاتھی کوریڈور موجود ہیں۔ ہاتھیوں کے عالمی دن کے موقع پر مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو نے کہا کہ ہاتھیوں کا مستقبل محفوظ کرنا بھارت کے جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی ورثے کو محفوظ کرنے کے مترادف ہے۔
یادو نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہاتھیوں کی آبادی کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان تنازع کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے ایسی کوششیں ضروری ہیں تاکہ آنے والی نسلوں تک وہ بھارت کے جنگلات اور قدرتی علاقوں میں آزادانہ طور پر گھوم پھر سکیں۔
مرکزی وزیر مملکت برائے ماحولیات کیرتی وردھن سنگھ نے کہا کہ بھارت دنیا کے سب سے زیادہ مالا مال اور متنوع قدرتی علاقوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کے جنگلی ایشیائی ہاتھیوں میں تقریباً 60 فیصد بھارت میں پائے جاتے ہیں۔ ایسے میں ہاتھی ملک کے ماحولیاتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہیں۔
سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں ہاتھیوں کی پناہ گاہیں ہاتھیوں کے تحفظ کے تئیں بھارت کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے ہاتھیوں کو ماحولیات کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ہاتھی جنگلات میں گھومتے ہیں تو دور دور تک بیج پھیلاتے ہیں، جس سے نئے پودوں کے اگنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح ہاتھیوں کی سرگرمیاں جنگلات اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سنگھ نے ہاتھیوں کے عالمی دن کے موقع پر لوگوں سے ان دیوہیکل جنگلی جانوروں کے تحفظ اور ان کے قدرتی مسکن کو محفوظ رکھنے کی کوششوں میں متحد ہونے کی اپیل کی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد