
نئی دہلی، 12 اگست(ہ س)۔ سال 2020 میں دہلی فسادات کے دوران آئی بی افسر انکت شرما کے قتل کے معاملے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے چھ ملزمان کو بری کیے جانے کے حکم کو دہلی پولیس ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی۔ بدھ کے روز دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے جسٹس پرتیبھا سنگھ کی سربراہی والی بنچ کو یہ اطلاع دی۔ ہائی کورٹ اس معاملے میں قصوروار قرار دیے گئے دو افراد کی سزا کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کر رہا ہے۔
اس معاملے میں قصوروار قرار دیے گئے دو افراد ناظم اور قاسم نے ہائی کورٹ میں عرضیاں داخل کرکے اپنی سزاؤں کو چیلنج کیا ہے۔ دونوں کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے دونوں ملزمان کی سزا معطل کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ جیل افسر کو اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سزا معطل کرنے کی درخواست پر 2 دسمبر کو سماعت ہوگی۔
کڑکڑڈوما عدالت نے انکت شرما قتل کیس میں طاہر حسین سمیت پانچ افراد کو قصوروار قرار دیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے اسی معاملے میں چھ ملزمان کو بری کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ عدالت نے طاہر حسین کے علاوہ جن افراد کو قصوروار قرار دیا، ان میں ناظم، قاسم، انس اور جاوید شامل ہیں۔
عدالت نے جن ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا، ان میں حسین عرف مولا جی عرف سلمان، سمیر خان، فیروز، جاوید، گلفام، شعیب عالم عرف بوبی اور منتظم عرف موسیٰ شامل ہیں۔دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 3 جون 2020 کو اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ کرائم برانچ کی چارج شیٹ میں کہا گیا تھا کہ 24 اور 25 فروری 2020 کو طاہر حسین نے اپنے گھر اور چاند باغ پلیا کے قریب واقع مسجد سے بھیڑ کی قیادت کی اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دیا۔چارج شیٹ میں کہا گیا تھا کہ انکت شرما کے قتل کی سازش رچی گئی تھی اور طاہر حسین کی قیادت والی بھیڑ نے انکت شرما کو خاص طور پر نشانہ بنایا تھا۔ یہ واردات کھجوری خاص علاقے میں طاہر حسین کے گھر کے باہر پیش آئی تھی۔ انکت شرما کے قتل کے بعد بھیڑ نے ان کی لاش نالے میں پھینک دی تھی۔
انکت شرما کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹروں نے ان کے جسم پر تیز دھار ہتھیار سے کیے گئے 51 زخموں کے نشانات پائے تھے۔ چارج شیٹ میں الزام لگایا گیا تھا کہ طاہر حسین نے ہی چاند باغ علاقے میں بھیڑ کو اکسایا تھا اور اسے اس معاملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا۔دہلی پولیس نے انکت شرما کے والد کے بیان کی بنیاد پر طاہر حسین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ طاہر حسین کے خلاف بھارتی تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی دفعات 302، 365، 201 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق، طاہر حسین کی چھت سے تشدد میں استعمال ہونے والا بڑی مقدار میں سامان بھی برآمد کیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan