
دھیماجی (آسام)، 12 اگست (ہ س)۔ دھیماجی ضلع کے گوہ پور (آسام-اروناچل پردیش سرحدی علاقے) کے راج گڑھ میں بدھ کو زبردست احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین نے اروناچل پردیش جانے والی سڑک کو مکمل طور پر بند کر دیا۔ یہ احتجاج دھیماجی ضلع کے گوگ مکھ کے منگ منگ بداتی علاقے میں اروناچل پردیش کے لوگوں کی جانب سے مبینہ طور پر اندھا دھند فائرنگ کیے جانے کے خلاف کیا گیا۔
یہ احتجاج ’ٹرائبل مائیگرنٹس پروٹیکشن کمیٹی‘ (ٹی ایم پی کے) اور کئی مقامی تنظیموں نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا۔ انہوں نے دو روز قبل پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کی سخت مذمت کی اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے واقعے کی مذمت میں نعرے لگائے اور پلے کارڈز دکھائے۔ ساتھ ہی انہوں نے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انہیں سخت سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
اس واقعے کے بعد دھیماجی میں ضلع گیر بند کی اپیل بھی سامنے آئی ہے، کیونکہ تنظیموں اور مقامی باشندوں نے فائرنگ کے واقعے کی مخالفت کی ہے۔ مظاہرین نے آسام-اروناچل پردیش سرحدی علاقے میں اس طرح کے واقعات بار بار پیش آنے پر تشویش کا اظہار کیا اور انتظامیہ سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بین ریاستی سرحد پر سکیورٹی کے مزید مضبوط انتظامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں علاقے میں ہوئی فائرنگ میں آسام کے تقریباً 11 افراد کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جن کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ اس دوران دونوں ریاستوں کی حکومتیں اس واقعے کو لے کر ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں، جبکہ واقعے کی تحقیقات اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد