
پھوس کے چھپر سے 20لاکھ تک کے کاروبار کا آمنہ کا سفر، خود انحصاری کا نیا باب لکھا
پٹنہ، 11 اگست(ہ س)۔ جہاں چاہ -وہاں راہ - اس کہاوت کو بہار کے شیوہر ضلع کے پورنہیا بلاک کے دوستیہ گاؤں کی آمنہ خاتون نے سچ ثابت کر دکھایا۔کبھی مالی مجبوریوں اور سماجی پابندیوں کی وجہ سے اپنے ہنر کو دبانے پر مجبور آمنہ دیدی آج خود انحصاری اور خواتین صنعت کاری کی مثال بن چکی ہیں۔ وہ اپنے لہٹھی کے کاروبار سے نہ صرف سالانہ لاکھوں کماتی ہیں بلکہ انہوں نے دو درجن سے زائد خواتین کے لیے مستقل روزگار بھی پیدا کیا ہے۔
شادی سے قبل لہٹھی (روایتی چوڑی) بنانے کا ہنر رکھنے والی آمنہ بتاتی ہیں کہ ان کی زندگی شادی کے بعد چار بچوں کی پرورش اور محدود آمدنی کے درمیان جدوجہد سے بھری تھی۔ اس کے شوہر لدھیانہ میں سلائی کا کام کرتے تھے، جس کی وجہ سے گھر کا خرچ چلانا بہت مشکل ہو جاتا تھا۔لیکن سال 2017 میں اعلی حضرت جیویکا سیلف ہیلپ گروپ اور باگمتی گرام سنگٹھن میں شامل ہونے کے بعد، اس کے خوابوں کو نئے پنکھ ملے۔
گروپ سے متاثر ہو کر اور اپنے شوہر کے تعاون سے، آمنہ نے 2020 میں گروپ سے 40,000روپے اپنا پہلا قرض لیا تھا۔چھ سال کے طویل وقفے کے بعد، انہوں نے سیتامڑھی سے خام مال خرید کر لہٹھی کی چوڑیاں بنانا دوبارہ شروع کیا۔ مقامی دکانداروں نے اس کی عمدہ کاریگری کو ہاتھوں ہاتھ لیا اورپہلی ہی مرتبہ میں انہیں 7,000 کا خالص منافع ہوا۔ اس کامیابی نے اس کے حوصلے کو مزید بلند کیا۔ اس کے بعد اس نے وقت پر قرض کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنے کاروبار کو بڑھایا۔ سرس میلوں میں آمنہ کی ہاتھ سے بنی لہٹھیوں کی بہت زیادہ مانگ رہی، جہاں سے انہیں 70,000 کا براہ راست منافع ہوا۔
اس معاملہ میں آمنہ کہتی ہیں کہ آج ان کا گھریلو کاروبار 15-20 لاکھ کے سالانہ ٹرن اوور والے ایک کامیاب صنعت میں تبدیل ہو گیا ہے، جس سے سالانہ 5لاکھ سے 6لاکھ کا خالص منافع ہورہا ہے۔ ان کی بہائی خوبصورت لہٹھیاں نہ صرف شیوہر اور سیتامڑھی کی 25-30 سے زیادہ دکانوں میں فروخت ہوتی ہیں بلکہ پٹنہ، دہلی، گروگرام، وارانسی، ہریانہ، اتر پردیش اور دیوگھر کے میلوں تک اپنی خاص شناخت بنا چکی ہے۔
جیویکا کے حکام کا کہنا ہے کہ اپنی محنت سے آمنہ نے نہ صرف اپنے خاندان کی قسمت بدل دی ہے بلکہ گاؤں کے 13 لوگوں کو روزگار بھی فراہم کیا ہے جن میں جیویکا سے وابستہ 10 خواتین بھی شامل ہیں۔ آمنہ دیدی، جنہوں نے اب تک گروپ سے لیے گئے 9.75 لاکھ روپے کے قرض کا 100فیصد ادا کیا ہے، اب وہ 20سے25 لاکھ روپے کی نئی سرمایہ کاری کے ساتھ اپنے کاروبار کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس کا سفر، جس کا آغاز پھوس کی چھپڑ سے ہوا، بہار کی لاکھوں خواتین کے لیے تحریک کا ذریعہ بن گیا ہے۔
آمنہ کی اس کامیابی پر مبارکباداور نیک خواہشات کا اظہار کر تے ہوئے دیہی ترقیات و رابطہ عامہ کے وزیرشرون کمار نے کہا کہ جیویکا میں شامل ہو کر، لاکھوں دیہی خواتین اپنی تقدیر خود لکھ رہی ہیں اور خود انحصاری کی طرف تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ جیویکا کے ذریعے حکومت مختلف گروہوں کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔ میںلہٹھی کے کاروبار سے وابستہ آمنہ خاتون کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان سے متاثر ہو کر دیگر خواتین بھی اپنی مہارت اور محنت سے اپنی شناخت قائم کریں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan