
امراؤتی، 11 اگست (ہ س): رواں مانسون کے دوران ورود تعلقہ میں معمول سے انتہائی کم بارش کے باعث پانی کے بحران اور خشک سالی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بارش میں طویل وقفے سے دریا اور نالے خشک ہونے لگے ہیں، جبکہ کنوؤں، ٹیوب ویلوں اور دیگر آبی ذخائر میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہورہی ہے۔ سنگین صورتحال کے پیش نظر کسانوں اور دیہاتیوں نے حکومت سے ورود تعلقہ کو فوری طور پر خشک سالی سے متاثرہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کم بارش کے باعث تعلقہ کی اہم فصلیں، خصوصاً سنترہ، کپاس، سویابین اور تور متاثر ہوئی ہیں۔ تعلقہ کی معیشت میں اہم مقام رکھنے والی سنترے کی فصل کا مرگ بہار بھی پانی کی کمی سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پانی کی قلت کے باعث سنترے کے درختوں سے پھل گرنے لگے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں فصلیں سوکھنے لگی ہیں۔ اس صورتحال سے کسانوں کی آمدنی بری طرح متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔بارش میں کمی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح بھی نمایاں طور پر نیچے چلی گئی ہے۔ اب تک تعلقہ میں صرف 260 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ جون اور جولائی میں اوسط بارش کے مقابلے میں 50 فیصد سے کم بارش ہونے پر خشک سالی کی صورتحال کے ابتدائی انتباہ کا معیار مقرر ہے۔ رواں سال اس حد سے بھی کم بارش ہونے کے باعث صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے۔
پینے کے پانی کا بحران بھی سنگین: بارش نہ ہونے کے باعث ورود تعلقہ کے کئی گاؤں میں ابھی سے پینے کے پانی کی قلت محسوس ہونے لگی ہے۔ دریاؤں، نالوں اور دیگر آبی ذرائع میں پانی کی سطح مسلسل کم ہونے سے آنے والے دنوں میں پانی کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔پانی کے ساتھ مویشیوں کے چارے کا مسئلہ بھی بڑھ رہا ہے۔ کم بارش سے سبز چارے کی دستیابی متاثر ہوئی ہے، جبکہ مویشیوں کے لیے پانی اور چارے کا انتظام کرنا کسانوں کے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔کسانوں اور دیہاتیوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پینے کے پانی، مویشیوں کے چارے اور زراعت کے لیے فوری ضروری اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی ورود تعلقہ کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دے کر کسانوں کو ضروری سرکاری امداد فراہم کی جائے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے