
روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کی موجودگی سیکورٹی اور انتظامی اداروں کے لیے باعث تشویش
جموں، 11 اگست (ہ س)۔ جموں ڈویژن کے سرحدی اضلاع جموں، سانبہ اور کٹھوعہ میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کی موجودگی سیکورٹی اور انتظامی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ان علاقوں میں وقتاً فوقتاً شناخت، دستاویزات کی جانچ اور تصدیق کے لیے مہمات چلائی جاتی رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق جموں ضلع میں روہنگیا شہریوں کی بڑی تعداد مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہے، جن میں نروال بالا، بھٹندی، بیلی چرانہ، چھنی ہمت، تالاب تلو اور کے سی چوک شامل ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 6,523 روہنگیا شہری مقیم ہیں، جن میں 6,461 جموں ڈویژن اور 62 کشمیر میں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے بعد حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر میں مقیم روہنگیا شہریوں کی تعداد سے متعلق نئے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، جس کے باعث موجودہ تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق روہنگیا شہریوں کی عارضی بستیاں جموں، سانبہ، ڈوڈہ، پونچھ اور اننت ناگ سمیت مختلف اضلاع میں موجود ہیں۔ صرف جموں ضلع میں تقریباً 30 مقامات پر ان کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
مارچ 2021 میں انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر مقیم قرار دیے گئے بعض روہنگیا شہریوں کو کٹھوعہ کے ہیرا نگر جیل منتقل کیا تھا، جہاں ڈیٹینشن سینٹر قائم کیا گیا تھا۔ ایسے افراد کے دستاویزات کی بھی جانچ کی گئی جن کے پاس مناسب شناختی کاغذات موجود نہیں تھے۔سیکورٹی ادارے سرحدی علاقوں میں روہنگیا اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کو دراندازی، اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت کے خدشات کے تناظر میں بھی دیکھتے ہیں۔ تاہم کسی بھی فرد کے خلاف عائد الزامات کی تصدیق متعلقہ تحقیقاتی کارروائی اور قانونی عمل کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔دریں اثنا، مقامی سطح پر بھی روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کی موجودگی کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جبکہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے شناخت اور دستاویزات کی تصدیق کا عمل جاری رکھنے کی بات کہی جاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر