پارلیمنٹ میں حکومت بحث کےلئے تیار، رججو کا اپوزیشن پر ایوان نہ چلنے دینے کا الزام، اپوزیشن نے بھی حکومت کو گھیرا
نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ پارلیمنٹ میں طلبہ کے احتجاج اور ان کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تعطل کے درمیان پارلیمانی امور کے وزیر کرن رِجِجو نے کہا ہے کہ حکومت طلبہ کی تحریک سے متعلق پورے معاملے پر تفصیلی
پارلیمنٹ میں حکومت بحث کےلئے تیار، رججو کا اپوزیشن پر ایوان نہ چلنے دینے کا الزام، اپوزیشن نے بھی حکومت کو گھیرا


نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ پارلیمنٹ میں طلبہ کے احتجاج اور ان کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تعطل کے درمیان پارلیمانی امور کے وزیر کرن رِجِجو نے کہا ہے کہ حکومت طلبہ کی تحریک سے متعلق پورے معاملے پر تفصیلی بحث اور ہر نکتے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے، لیکن اپوزیشن بحث نہیں ہونے دینا چاہتی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ بھی اس معاملے پر جواب دینے کے لیے تیار تھے، لیکن کانگریس بحث کے بجائے باہر نعرے بازی کر رہی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر جواب دہی سے بچنے کا الزام عائد کیا۔

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رِجِجو نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پیر کو ہی طلبہ کے احتجاج سے متعلق واقعات پر مکمل اور تفصیلی بحث کی پیشکش کی تھی۔ حکومت کی جانب سے جواب تیار تھا اور وزیر داخلہ امیت شاہ جواب دینے کے لیے تیار تھے، لیکن اپوزیشن نے بحث نہیں ہونے دی۔ منگل کو بھی حکومت بحث کے لیے تیار تھی، تاہم کانگریس نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج اور نعرے بازی کی۔

رِجِجو نے کہا کہ حکومت طلبہ کے احتجاج سے متعلق ہر معاملے پر تفصیلی بحث اور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ بحث ہونے سے پورے معاملے کی صورتحال واضح ہوجائے گی۔ انہوں نے کانگریس سے بحث سے پیچھے نہ ہٹنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مانسون اجلاس اب اختتام کی جانب ہے اور حکومت نے طلبہ کے معاملے پر تفصیلی بحث کی پیشکش کی ہے۔

دوسری جانب کانگریس کے راجیہ سبھا رکن پون کھیڑا نے سوال اٹھایا کہ وزیر داخلہ نوجوانوں اور ان کے نمائندوں کے سامنے آنے سے کیوں خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پارلیمنٹ میں آنے اور طلبہ سے متعلق سوالات کا سامنا کرنے سے بچ رہی ہے۔ کھیڑا نے بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے کارکنوں کو بسوں میں بھر کر لائے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ پولیس کا رویہ سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئے ہیں، اس لیے پورے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ ایودھیا رام مندر چڑھاوے میں مبینہ چوری کا معاملہ بھی اہم ہے۔ اس لیے دونوں معاملات پر بحث ہونی چاہیے، تاکہ یہ سامنے آسکے کہ ان واقعات کے پیچھے کون لوگ ہیں اور حقیقت کیا ہے۔ جھارکھنڈ میں جاری طلبہ کے احتجاج کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہاں کی حکومت پہلے دن سے ہی طلبہ سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے رام مندر ٹرسٹ سے متعلق چڑھاوے اور زمین کے لین دین کے معاملات پر حکومت سے جواب طلب کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لوگوں کی آستھا سے جڑے اس معاملے پر اب تک نہ کوئی واضح بیان دیا گیا ہے اور نہ ہی چڑھاوے کی رقم کے استعمال اور اس کے مبینہ طور پر غائب ہونے سے متعلق معلومات عام کی گئی ہیں۔

ڈمپل یادو نے کہا کہ رام مندر ٹرسٹ سے متعلق زمین کے لین دین کے دستاویزات موجود ہیں اور اس معاملے میں ایس آئی ٹی کی تشکیل کو دو سال گزر چکے ہیں۔ دستاویزات اور شواہد دستیاب ہونے کے باوجود اب تک کارروائی کیوں نہیں ہوئی، حکومت کو اس کا جواب دینا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande