
نئی دہلی، 11 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کی مخالفت میں منگل کو قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ احاطے میں مارچ کیا۔ اس دوران حکمراں اتحاد نے اپوزیشن اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی پر پارلیمنٹ کے اندر بحث سے فرار اختیار کرنے اور بار بار تعطل پیدا کرنے کے لیے اپنے مطالبات تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا۔احتجاج کے دوران ارکان پارلیمنٹ نے الزام لگایا کہ جھارکھنڈ میں طلبہ پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔ این ڈی اے رہنماؤں نے اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن پر طلبہ کے مسئلے پر سیاست کرنے اور پارلیمنٹ میں بحث سے بچنے کا الزام عائد کیا۔پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران منگل کو ہونے والے این ڈی اے ارکان پارلیمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد تمام ارکان ہاتھوں میں بینر لیے احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مکر دوار کی جانب پہنچے۔ بینروں پر لکھا تھا،’جھارکھنڈ میں طلبہ پر ہونے والے ظلم پر راہل گاندھی جواب دو۔‘ اس دوران ارکان پارلیمنٹ نے نعرے لگائے، ’راہل گاندھی بحث کرو، بھاگو مت۔‘بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ راہل گاندھی کو جھارکھنڈ کے معاملے پر وہاں کی حکومت سے کانگریس کی حمایت واپس لے لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ میں طلبہ پر ہونے والے لاٹھی چارج کے لیے راہل گاندھی کو جوابدہ ہونا چاہیے۔بی جے پی رہنما نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی مسلسل اپنا موقف اورمدعے تبدیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے اور وزیر داخلہ امت شاہ بھی بیان دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن راہل گاندھی ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دینا چاہتے۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے الزام لگایا کہ بھوک ہڑتال کرنے والے دیویندر ناتھ مہتو کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کی گئی۔ انہوں نے جھارکھنڈ میں تعینات ایک افسر کے رویے پر بھی سوال اٹھایا۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔ انہوں نے کانگریس اور راہل گاندھی پر طلبہ کے معاملے پر سیاست کرنے اور پارلیمنٹ میں اس موضوع پر بحث سے بچنے کا الزام عائد کیا۔لوک جن شکتی پارٹی(رام ولاس) کے رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے بھی اپوزیشن پر پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے اور بار بار اپنے مطالبات تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہر مسئلے پر بحث کے لیے تیار ہے، لیکن اپوزیشن مسلسل اپنے مطالبات تبدیل کر رہی ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan